Express News:
2026-07-24@09:18:28 GMT

پالیسی کا عدم استحکام گرین فنانس کی راہ میں رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT

کراچی:

پاکستان کی معیشت کو گہرے ساختی مسائل، بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات اور وسیع سرمایہ کاری کے خلا نے طویل المدتی استحکام کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

حکومت کی برآمدات پر مبنی ترقی اور پائیدار ترقی کے وعدوں کے باوجود ماہرین نے خبردار کیا کہ سرمایہ کاری میں رکاوٹیں، ماحولیاتی کمزوری کا سامنا اور پائیدار کاروباری طریقوں کی کمی ملک کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایسوسی ایشن (ACCA) اور پاکستان بزنس کونسل (PBC) کی مشترکہ رپورٹ پائیدار فنانس، کارپوریٹ گورننس اور پالیسی فریم ورک میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پائیداری عالمی ترجیح بن چکی ہے لیکن پاکستان ابھی تک اسے اپنے معاشی ماڈل میں مؤثر طریقے سے شامل کرنے میں پیچھے ہے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو اپنی طرف راغب کرنا ہے۔

سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف مالی خطرات پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور ریگولیٹری پیش بینی پر بھی انحصار کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پائیدار سرمایہ کاری حاصل کرنا اور بھی مشکل ہے کیونکہ سرمایہ کار قلیل مدتی منافع کو طویل مدتی گرین منصوبوں کے غیر یقینی نتائج کے مقابلے میں تولتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے سرمایہ کاری کا سالانہ خلا 4 کھرب ڈالر ہے۔

پاکستان میں یہ خلا 2023 میں جی ڈی پی کے 16.

1 فیصد کے برابر تھا، جو دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ میں شمار ہوتا ہے۔پالیسی کی غیر یقینی صورتحال دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہے جیسے جیسے عالمی تجارت میں پائیداری سے جڑی شرائط اہمیت اختیار کر رہی ہیں، پاکستان کے برآمدکنندگان کو خطرہ ہے کہ اگر مقامی طریقے بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہوئے تو انھیں تجارتی اخراج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2050 تک جنوبی ایشیا کی 15 فیصد جی ڈی پی ماحولیاتی نقصانات کی زد میں آ سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ہے گرین انرجی، پانی کے تحفظ اور معیشت میں ماحولیاتی لچک کو شامل کرنا۔ بصورت دیگر بار بار آنے والی آفات محدود وسائل کو مزید دیمک کی طرح چاٹتی رہیں گی۔

کارپوریٹ سطح پر پاکستان کی کمپنیاں پائیداری کی اہمیت کو تسلیم کرنے لگی ہیں۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SECP) نے جولائی 2025 سے فہرست شدہ کمپنیوں کے لیے عالمی IFRS S1 اور S2 پائیداری ڈسکلوزر معیارات کے تدریجی نفاذ کا اعلان کیا ہے، جو ایک اہم قدم ہے مگر اس کے لیے صلاحیت سازی لازمی ہوگی۔

چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں کو رپورٹنگ کے اخراجات، ڈیٹا کے موازنہ کی کمی اور "گرین واشنگ" کے خطرات کا سامنا ہے، جہاں کمپنیاں ماحولیاتی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔

یہ عمل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ پاکستان نے گرین فنانس کے فروغ کے لیے اقدامات کیے ہیں جن میں اسٹیٹ بینک کی گرین بینکنگ گائیڈ لائنز (2017) اور SECP کا گرین بانڈ فریم ورک (2021) شامل ہیں۔

رپورٹ زور دیتی ہے کہ گرین سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان نے 2030 تک 60 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے اور درآمدی کوئلے پر پابندی لگانے کا ہدف رکھا ہے۔

ACCA-PBC رپورٹ کہتی ہے کہ سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور ریگولیٹرز کے درمیان فوری تعاون ناگزیر ہے تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار