مشہور اطالوی فیشن ڈیزائنر ’’جورجیو ارمانی‘‘ انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
دنیا بھر میں فیشن اور لگژری کی پہچان سمجھے جانے والے برانڈ ’ارمانی‘ کے بانی اور معروف اطالوی ڈیزائنر جورجیو ارمانی 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
ارمانی گروپ نے 4 ستمبر کو اپنے انسٹاگرام پیج پر جاری بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ بیان کے مطابق ارمانی اپنے آخری ایام تک اپنے کام سے جڑے رہے اور اپنے پیاروں کے درمیان پُرسکون انداز میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہیں ان کے ملازمین اور ساتھی ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ یاد کرتے رہیں گے۔
کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ ارمانی نئے کلیکشنز اور آئندہ منصوبوں کے لیے آخری وقت تک سرگرم رہے۔ انگریزی اور اطالوی زبان میں جاری بیان میں کہا گیا کہ ارمانی گروپ میں کام کرنے والے ملازمین ہمیشہ خود کو ایک خاندان کا حصہ سمجھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی آخری رسومات 6 ستمبر کو نجی طور پر ادا کی جائیں گی۔
View this post on InstagramA post shared by Giorgio Armani (@giorgioarmani)
1975 میں اپنے نام سے برانڈ متعارف کرانے والے جورجیو ارمانی نے ابتدا میں مردانہ لباس کے محدود مجموعے سے سفر شروع کیا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسے ایک عالمی فیشن سلطنت میں بدل دیا۔ ان کا برانڈ نہ صرف کپڑوں بلکہ جوتوں اور دیگر لگژری مصنوعات کے باعث بھی دنیا بھر میں مشہور ہے، جن کی قیمتیں لاکھوں میں ہیں۔
فیشن کی دنیا میں ارمانی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو کاروباری حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑا اور ایک ایسی کمپنی قائم کی جو آج سالانہ تقریباً 2.
کچھ عرصے سے علیل رہنے کے باعث وہ جون میں میلان مینز فیشن ویک کے دوران اپنے برانڈ کے شوز میں شریک نہیں ہو سکے، جو ان کے طویل کیریئر میں پہلا موقع تھا کہ وہ اپنے ہیٹ واک ایونٹس سے غیر حاضر رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔