سپریم کورٹ میں انتظامی نوعیت کے اہم امور پر غور کے لیے فل کورٹ اجلاس 8 ستمبر (اتوار) کو طلب کر لیا گیا ہے، جو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی عدم موجودگی میںجسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت دوپہر ایک بجے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق، اجلاس کا ایجنڈا صرف ایک نکاتی ہوگا، جس میں حال ہی میں متعارف کرائے گئے سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترامیم کا جائزہ لیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رولز پہلےسرکولیشن کے ذریعے منظور کیے گئے تھے اور انہیں ججوں کی اکثریت نے منظوری دی تھی، تاہم بعض ججز کا مؤقف ہے کہ ایسے اہم ضوابط کی منظوری فل کورٹ اجلاس سے ہونی چاہیے تھی تاکہ تمام ججوں کی رائے شامل ہو۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اجلاس سے قبل صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سےتحریری تجاویز عدالت عظمیٰ کو بھجوائی جا چکی ہیں، جن میں خاص طور پرعدالتی فیسوں میں حالیہ اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس میںنظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، تاحال سپریم کورٹ کے کسی جج کی جانب سے رولز میں ترامیم کے لیےباضابطہ تجاویز جمع نہیں کروائی گئی ہیں، تاہم اجلاس کے دوران مختلف آراء اور تجاویز سامنے آنے کی توقع ہے۔یہ فل کورٹ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عدالتی امور سے متعلق کئی کلیدی ضوابط، بالخصوص مقدمات کی تقسیم، بینچ کی تشکیل، اور عدالتی فیسوں جیسے موضوعات پر بار اور بنچ کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فل کورٹ اجلاس سپریم کورٹ

پڑھیں:

بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر

اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ