اسلام آباد، افغان زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے تعزیت اور دعاؤں کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
افغانستان میں حالیہ زلزلے کے شہدا کی یاد اور تعزیت کے طور پر آج اسلام آباد میں قائم افغان سفارتخانے میں تعزیتی رجسٹر کھولا گیا۔ اس موقع پر وفاقی حکومت کے نمائندوں، غیر ملکی سفارتکاروں، علمی و سماجی شخصیات اور صحافیوں نے اپنے تاثرات درج کیے اور مرحومین کے لیے دعائیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں زلزلہ، پاکستان نے طبی امداد روانہ کر دی
تعزیتی رجسٹر میں دستخط اور دعاؤں میں نمایاں شخصیات شریک ہوئیں جن میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان صادق خان، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ نے اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
Today, the Embassy of Afghanistan in Islamabad opened a Condolence Book in honor and remembrance of the martyrs of the recent earthquake in the country.
— AFG Embassy Pakistan (@AfghanEmbPak) September 5, 2025
عوامی نیشنل پارٹی کے چیئرمین ایمل ولی خان، وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر عاصف محمود جاہ، روسی سفیر البرٹ خورے، قازقستان کے سفیر یرزھان کسٹافن، ویتنام کے نائب سفیر فام توان، دارالافتا اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر مفتی عقیل پیرزادہ نے بھی اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں ایک بار پھر 6.3 شدت کا زلزلہ، تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں،امریکی جیولوجیکل سروے
جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا صلاح الدین ایوبی اور جماعت اسلامی کے امور خارجہ کے سربراہ عاصم لقمان قاضی نے بھی افغان سفارتخانے میں تعزیتی رجسٹرڈ میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔
شخصیات نے افغان سفیر سردار احمد شکیب سے ملاقات کر کے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، سفارتخانے میں دعاؤں اور تعزیتی رجسٹر پر دستخط کا سلسلہ جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد افغانستان پاکستان تعزیتی رجسٹر زلزلہ سفارتخانہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد افغانستان پاکستان تعزیتی رجسٹر زلزلہ سفارتخانہ تعزیتی رجسٹر اپنے تاثرات
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔