غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری؛ مزید 69 فلسطینی شہید، سیکڑوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
غزہ ایک بار پھر اسرائیلی فوج کے شدید حملوں کی لپیٹ میں ہے، جہاں تازہ بمباری میں مزید 69 فلسطینیوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 400 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے یہ سلسلے تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ جمعہ کو اسرائیلی طیاروں نے غزہ سٹی کے مصطحہ ٹاور کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں اسرائیلی فوج کا دعویٰ تھا کہ یہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے استعمال میں تھا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی ان کارروائیوں میں 422 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ حملوں میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 28 بچے شہید ہو رہے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر شہادتوں میں بچوں کا حصہ 30 فیصد ہے۔ اس صورتحال نے علاقے میں انسانی المیے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی شہری کو نشانہ بنایا۔ وزارتِ صحت کے مطابق 57 سالہ احمد شہادہ کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا اور ان کی لاش بھی فوج اپنے ساتھ لے گئی۔
غزہ اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں نے فلسطینی عوام کو شدید غم و غصے اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :