بھارت میں موجود ہوا کا کم دباؤ مزید طاقتور ہوگیا، کراچی میں کل سے موسلادھار بارش کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ گزشتہ روز شمال مغربی مدھیہ پردیش اورملحقہ مشرقی راجستھان پرموجود ہواکا کم دباؤ اب مزید طاقتور ہوکر سندھ پرموجود ہے جس کے زیر اثر کراچی میں کل سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق ہوا کا ایک کم دباؤ کل شمال مغربی مدھیہ پردیش اورملحقہ مشرقی راجستھان پرموجود تھا جوکہ اب مزید طاقتور ہو کرجنوب مشرقی راجستھان (انڈیا) اور ملحقہ سندھ پرموجود ہے۔
بیان کے مطابق اس سسٹم کی وجہ سے صوبہ سندھ کے مشرقی علاقوں میں طاقتورمون سون ہوائیں اثرانداز ہونے کا امکان ہے، کل شام سے11ستمبرتک کراچی ڈویژن میں وقفے وقفے کے ساتھ تیزہواوں اورگرج چمکے ساتھ درمیانی وموسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے کہا کہ تیز اسپیلز کی وجہ سے کراچی سمیت دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
بیان کے مطابق آج شام سے 10 ستمبر تک تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، خیرپور، شہید بےنظیرآباد، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار، حیدرآباد، ٹھٹھ، بدین، سجاول اور جامشورو کے اکثر مقامات پر گرج چمک اور تیزہواؤں کے ساتھ موسلادھار اورشدید موسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دادو، لاڑکانہ، جیکب آباد، گھوٹکی میں آج سے 10 ستمبرتک تیز ہواؤں کے ساتھ کہیں درمیانی شدت اورکہیں موسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے تاہم آج دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کا امکان ہے کے مطابق کے ساتھ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔