محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ گزشتہ روز شمال مغربی مدھیہ پردیش اورملحقہ مشرقی راجستھان پرموجود ہواکا کم دباؤ اب مزید طاقتور ہوکر  سندھ پرموجود ہے جس کے زیر اثر کراچی میں کل سے گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ پیش گوئی کے مطابق ہوا کا ایک کم دباؤ کل شمال مغربی مدھیہ پردیش اورملحقہ مشرقی راجستھان پرموجود تھا جوکہ اب مزید طاقتور ہو کرجنوب مشرقی راجستھان (انڈیا) اور ملحقہ سندھ پرموجود ہے۔

بیان کے مطابق اس سسٹم کی وجہ سے صوبہ سندھ کے مشرقی علاقوں میں طاقتورمون سون ہوائیں اثرانداز ہونے کا امکان ہے، کل شام سے11ستمبرتک کراچی ڈویژن میں وقفے وقفے کے ساتھ تیزہواوں اورگرج چمکے ساتھ درمیانی وموسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے کہا کہ تیز اسپیلز کی وجہ سے کراچی سمیت دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

بیان کے مطابق آج شام سے 10 ستمبر تک تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، خیرپور، شہید بےنظیرآباد، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار، حیدرآباد، ٹھٹھ، بدین، سجاول اور جامشورو کے اکثر مقامات پر گرج چمک اور تیزہواؤں کے ساتھ موسلادھار اورشدید موسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دادو، لاڑکانہ، جیکب آباد، گھوٹکی میں آج سے 10 ستمبرتک تیز ہواؤں کے ساتھ کہیں درمیانی شدت اورکہیں موسلادھاربارشوں کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے تاہم آج دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کی توقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کا امکان ہے کے مطابق کے ساتھ

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے