ABUJA:

نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو کے سرحدی علاقے کے ایک گاؤں دارل جمال میں شدت پسندوں کی ایک وحشیانہ کارروائی میں 53 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 7 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آوروں نے گاؤں میں داخل ہو کر بے رحمی سے فائرنگ کی اور کئی مکانات کو آگ لگا دی۔

شدت پسندوں نے 20 سے زائد مکانات اور 10 بسوں کو بھی تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں علاقے میں افراتفری اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دارل جمال کے مکین جو طویل عرصے تک بے گھر ہو چکے تھے حالیہ چند مہینوں میں اپنے گاؤں واپس آئے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق یہ حملہ اتنی شدت سے ہوا کہ اس نے نہ صرف انسانی زندگیوں کو نقصان پہنچایا بلکہ علاقے کی معیشت اور روزمرہ کی زندگی بھی بری طرح متاثر کی۔

نائجیریا کی فوج نے اس حملے کے بعد اعلان کیا کہ دہشت گرد تنظیموں، بشمول بوکو حرام اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، لیکن اس حملے نے حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نائجیریا میں شدت پسند گروہ خاص طور پر بوکو حرام اور اس سے جڑے گروہ طویل عرصے سے ریاست کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں تو کی جا رہی ہیں، تاہم شدت پسندوں کے حملوں میں کمی آنے کے بجائے مزید شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار