دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے جس کے باعث سندھ کے کچے کے علاقے زیرِ آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچنے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

سیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں پر کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت نے ستلج میں مزید سیلابی ریلا چھوڑ دیا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ

صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کے مطابق سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ادھر پنجاب کے مختلف اضلاع بھی شدید متاثر ہیں۔ ملتان میں شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کا دباؤ برقرار ہے جبکہ جھنگ میں دریائے چناب پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 88 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جس سے کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں۔

دریائے راوی میں مائی صفوراں کے مقام سے نکلنے والے ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات ڈبو دیے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے۔

دوسر طرف بہاولنگر میں سیلاب نے 143 دیہات متاثر کیے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب سیلاب سندھ گڈو بیراج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب سیلاب گڈو بیراج گڈو بیراج

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود