دریائے سندھ میں پانی کی آمد اور اخراج میں زبردست اتار چڑھاؤ، تازہ ترین اعداد و شمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
کراچی:
پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے سندھ کے مختلف بیراجوں اور دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق صوبے میں پانی کی صورتحال میں شدید تبدیلی آئی ہے۔
پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے مطابق تریموں بیراج پر گذشتہ 12 گھنٹوں میں پانی کی آمد 112,576 کیوسک کے اضافے کے ساتھ 488,169 کیوسک تک پہنچ گئی، جس سے بیراج پر پانی کا اخراج بھی بڑھ کر 488,169 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
پنجند بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 345,047 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جس سے گڈو اور سکھر بیراج کے حالات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بیراج سندھ کے اہم ترین بیراجوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں پانی کا بہاؤ مسلسل نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔
گڈو بیراج پر پانی کی آمد 366,151 کیوسک اور اخراج 328,487 کیوسک ریکارڈ کیا گیا اور ممکنہ طور پر آج اس بیراج سے بڑا سیلابی ریلا گزرے گا۔
اس میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی پانی کی سطح میں تبدیلی جاری ہے جو مقامی علاقوں میں سیلابی صورتحال کو بڑھا سکتی ہے، متعلقہ حکام نے سیہون کے دریائی بیلٹ کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے سکھر بیراج کا دورہ کیا اور کہا کہ جب پنجند اور گڈو بیراج پر سیلابی ریلا پہنچے گا تو تب صورتحال واضح ہو سکے گی۔
سکھر بیراج پر پانی کی آمد 329,990 کیوسک اور اخراج 281,985 کیوسک رہا، جس کے باعث سکھر بیراج میں بھی پانی کی سطح میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے جس کا اثر اطراف کے علاقوں پر پڑ رہا ہے۔
کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 245,452 کیوسک اور اخراج 226,497 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو کہ معمول سے زیادہ ہے، اور اس سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بھی متاثر ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیوسک ریکارڈ کیا گیا بیراج پر پانی کی آمد میں پانی کی سکھر بیراج اور اخراج
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔