مائیکروسافٹ کا کلاؤڈ پلیٹ فارم متاثر، کیبل کٹنے کے واقعات ہفتے میں کتنی بار ہوتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
عالمی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ اس کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارم کے نیٹ ورک ٹریفک میں مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں میں تاخیر میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ ریڈ سی (بحیرہ احمر) میں زیر سمندر فائبر آپٹک کیبلز کا کٹنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 45 ہزار کلومیٹر طویل دنیا کی تیز رفتار انٹرنیٹ کیبل پاکستان پہنچ گئی
مائیکروسافٹ نے کیبلز کے کٹنے کی وجہ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی تاہم بتایا کہ اس کا نیٹ ورک ہفتے سے متاثر ہو رہا ہے۔
کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ نیٹ ورک ٹریفک جو مشرق وسطیٰ سے گزر کر نہیں آتی اس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی پر اثراتانٹرنیٹ رسائی کی نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے بتایا ہے کہ ریڈ سی میں زیر سمندر کیبلز کی کئی کٹوتیوں کی وجہ سے بھارت، پاکستان اور دیگر کئی ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔
ریڈ سی کے ذریعے گلوبل انٹرنیٹ اور ٹیلی کام کیبلز کی بندرگاہی راستے استعمال ہوتے ہیں لیکن یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سنہ 2023 کے آخر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں نے کیبلز کی حالت کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
مزید پڑھیے: بہتر انٹرنیٹ سروس: کیا ’2 افریقہ کیبل‘ شارک سے محفوظ رہے گی؟
حوثی گروپ نے ان حملوں کو اسرائیل فلسطین جنگ کے تناظر میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی قرار دیا ہے۔
کیبلز کی حفاظت اور اہمیتدنیا بھر میں تقریباً 1.
انٹرنیشنل کیبل پروٹیکشن کمیٹی کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 150 سے 200 کیبل کے حادثات ہوتے ہیں یعنی ہفتے میں تقریباً 3 واقعات رونما ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں مزید 3 سب میرین کیبلز لگائی جائیں گی، شزہ فاطمہ
زیادہ تر نقصانات ماہی گیری، اینکرنگ اور قدرتی عوامل جیسے کہ پرانا ہونا، رگڑ اور آلات کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیٹ کیبل دنیا بھر میں کیبل کٹنگ واقعات زیر زمین انٹرنیٹ کیبل مائیکرسافٹ کلاؤڈ کمپیوٹنگ پلیٹ فارم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ کیبل دنیا بھر میں کیبل کٹنگ واقعات زیر زمین انٹرنیٹ کیبل انٹرنیٹ کی کیبلز کی ہوتے ہیں کی وجہ
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ(Operation Checkmate) کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
مزیدپڑھیں:مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔