وزیر داخلہ کا موبائل ڈیٹا لیک اور فروخت ہونے کی خبر کا سخت نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایکسپریس نیوز کی جانب سے نشر کردہ موبائل سمز ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے این سی سی آئی اے کو ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کی جانب سے خبر نشر کی گئی کہ انٹرنیٹ پر حکومتی شخصیات، اعلیٰ سرکاری افسران اور وفاقی وزرا کی موبائل سمز کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر کھلے عام فروخت ہورہا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے چیئرمین پی ٹی اے تک تمام شخصیات کی سمز کی تفصیلات، شناختی کارڈ کی تصاویر، کال ڈیٹا ریکارڈ اور لوکیشن کی تفصیلات گوگل اور مختلف ویب سائٹس پر سستے داموں فروخت ہورہی ہیں۔
ایکسپریس نیوز نے ایک سال قبل بھی اس حوالے سے نشاندہی کی تھی جس پر پی ٹی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ ایسی تمام ویب سائٹس کو پاکستان میں بند کردیا گیا ہے تاہم ایک بار پھر مختلف ویب سائٹس پر یہ ڈیٹا فروخت کیلیے دستیاب ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خبر کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایات جاری کیں اور تحقیقات کیلیے 14 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے، یہ ٹیم ڈیٹا لیکج کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی جبکہ اس میں ملوث عناصر کا تعین کر کے فوری کارروائی کرے گی۔
ترجمان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم 14 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔