سعودی عرب میں 95واں قومی دن 23 ستمبر کو، عام تعطیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
ریاض: سعودی عرب میں 95واں یومِ قومی 23 ستمبر کو بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا، اس موقع پر مملکت بھر میں شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کے لیے عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یومِ قومی دراصل اُس تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب 1932 میں بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کے فرمان کے تحت نجد اور حجاز کو متحد کرکے سعودی عرب کے نام سے ایک ریاست قائم کی گئی، یہ دن سعودی عوام کے لیے اتحاد، فخر اور قومی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یومِ قومی پہلی بار 1965 میں فرمانروا شاہ فیصل کے دور میں منایا گیا تھا، 2005 میں شاہ عبداللہ کے شاہی فرمان کے بعد اس دن کو مستقل سرکاری تعطیل کا درجہ دے دیا گیا۔
اس سال یومِ قومی کا تھیم “ہمارا فخر ہماری فطرت میں ہے” رکھا گیا ہے، جسے جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (GEA) نے جاری کیا, اس نعرے کا مقصد سعودی عوام کی ثقافتی اقدار، قدرتی ورثے اور مہمان نوازی، جرات، وقار، سخاوت اور بلند حوصلے جیسے اوصاف کو اجاگر کرنا ہے۔
تقریبات کے سلسلے میں ملک بھر میں شاندار آتشبازی، ڈرون شوز، سعودی ہاکس کے فضائی مظاہرے، ثقافتی پروگرام، روایتی رقص اور نمائشیں منعقد کی جائیں گی، ریاض، جدہ، دمام اور دیگر بڑے شہروں میں خصوصی تقریبات ہوں گی جبکہ اہم سرکاری و نجی عمارتوں کو سبز رنگ کی روشنیوں سے منور کیا جائے گا۔
یومِ قومی کے موقع پر سعودی شہری اور غیر ملکی باشندے سبز پرچم لہراتے اور قومی رنگوں میں ملبوس ہو کر اپنی خوشی اور عقیدت کا اظہار کریں گے, یہ دن نہ صرف سعودی عرب کے اتحاد کی علامت ہے بلکہ مستقبل کی ترقی اور استحکام کے عزم کی تجدید بھی ہے۔
خیال رہےکہ گزشتہ سال قومی دن پر لاکھوں افراد نے ریاض، جدہ اور دمام میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت کی تھی، سعودی ہاکس کی ایروبیٹک پرفارمنس اور ڈرون لائٹ شوز نے عوام کو محظوظ کیا جبکہ تاریخی قلعوں، بازاروں اور ساحلی علاقوں میں ثقافتی میلوں کا انعقاد ہوا، اس موقع پر مختلف اداروں اور تنظیموں نے عوام کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز بھی متعارف کرائے تھے، جنہیں زبردست پذیرائی ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔