سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کی شکاگو میں کاروباری شخصیات سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
شکاگو(نیوز ڈیسک) پاکستانی امریکن شکاگو لینڈ چیمبر آف کامرس کی جانب سے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کے دورہ شکاگو کے موقع پر بزنس گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ملاقات میں شکاگو میں پاکستان کے قونصل جنرل طارق کریم نے بھی شرکت کی۔
تقریب میں پاکستانی-امریکی کاروباری برادری کے نمایاں اراکین ، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، ٹیکنالوجی، توانائی، صحت کی دیکھ بھال اور وینچر کیپیٹل سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے صنعت کار شریک تھے۔
اپنے ریمارکس میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان اور امریکہ کی تجارتی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہ کہا کہ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ انہوں نے باہمی مفاد میں آنے والے سالوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کے حوالے سے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان کے متحرک اور ترقی پذیر سرمایہ کاری کے ماحول کو اجاگر کیا جو مسابقتی مراعات، ہنر مند نوجوان افرادی قوت، اور انفراسٹرکچر پر مبنی ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے تذویراتی جغرافیائی محل وقوع کو علاقائی تجارت اور روابط کے لیے قدرتی مرکز کے طور پر بھی اجاگر کیا جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کو جوڑتا ہے۔
انہوں نے شرکاء کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے بارے میں آگاہ کیا جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے سنگل – ون ونڈو آپریشن اور پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے فرائض انجام دینا ہے۔ انہوں نے امریکی کاروباری اداروں کو آئی ٹی، تجارت، زراعت، توانائی، صحت ، کان کنی اور معدنیات کے شعبہ جات میں موجود وافر مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کا سفارت خانہ اور شکاگو میں قونصلیٹ جنرل پاکستان کو امریکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے ایک قابل اعتماد، طویل مدتی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کے لیے اقتصادی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
پی اے سی سی سی کی قیادت بشمول صدر جناب نوید انور اور ڈاکٹر طارق بٹ نے چیمبر کے وژن اور مقاصد کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 میں ، قونصل جنرل کی مشاورت سے تنظیم کی داغ بیل ڈالی گئی اور اس کا مقصد اقتصادی تعاون اور ڈائیسپورا کی کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ہے۔
شرکاء نے امریکی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے، پاکستانی صنعت کے ساتھ ادارہ جاتی اور کاروبار ی روابط کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
قونصل جنرل طارق کریم نے چیمبر کے وژن کو حقیقت میں بدلنے پر پی اے سی سی سی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک میں کاروباری برادریوں کو جوڑنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یو ایس مڈویسٹ کے ساتھ پاکستان کی تجارتی اور سرمایہ کاری کی مصروفیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے قونصلیٹ جنرل کے ڈاسپورا انٹرپرینیورز کی حمایت اور پاکستان میں معتبر شراکت داروں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پی اے سی سی سی کے اراکین نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مستقبل کے تجارتی وفود، سرمایہ کاری کے فورمز اور کاروبار کے فروغ کے پروگراموں کے انعقاد کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سفیر پاکستان کو مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ سرمایہ کاری پاکستان کے انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔