لوگوں کو فوری انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پشاور:
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ لوگوں کو فوری انصاف نہیں مل رہا۔
موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد ہائیکورٹ نے باقاعدہ کام کا آغاز کردیا ہے۔ اس موقع پر نئے جوڈیشل سال کے آغاز کے سلسلے میں کورٹ روم نمبر ون میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف جسٹس، سینئر پیونی جج جسٹس اعجاز انور اور ہائیکورٹ کے دیگر ججز نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ہزاروں کیس زیر التوا ہیں۔ پچھلے سال ہائیکورٹ نے داخل ہونے والے کیسز سے زیادہ کیسز نمٹائے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ میں زیرالتوا کیسز کی تعداد 39 ہزار 73 تھی اور اب کم ہوکر 36 ہزار 36 ہزار 702 ہے۔ ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں بھی زیرالتوا مقدمات میں کمی آئی ہے۔ پچھلے سال زیرالتوا مقدمات کی تعداد 2 لاکھ 63 ہزار 437 تھی جب کہ 4 لاکھ 85 ہزار 198 نئے کیسز داخل ہوئے۔ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججز نے 5 لاکھ 27 ہزار 283 نئے مقدمات نمٹائے اور اس وقت ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 2 لاکھ 23 ہزار 419 ہے۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کا کہنا تھا کہ جلد انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ لوگوں کو فوری انصاف نہیں مل رہا۔ جلد انصاف کی فراہمی کے لیے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کو مضبوط کررہے ہیں۔ شفاف اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے مزید اقدامات کررہے ہیں۔ ہم نے مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہے، اس سے عوام کے مسائل جلد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سول کیسز میں انصاف کی فراہمی کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ وکلا کمیونٹی کا تعاون بہت ضروری ہے۔ بار ایسوسی ایشنز اور وکلا کمیونٹی کے تعاون کے بغیر عدالتی نظام بہتر نہیں ہوسکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انصاف کی فراہمی ڈسٹرکٹ جوڈیشری فوری انصاف چیف جسٹس
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔