ہائیکورٹ کا سی ڈی اے انتظامیہ کے خلاف بڑا حکم، آفیسران کی پروموشن سے روک دیا، تفصیلات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
ہائیکورٹ کا سی ڈی اے انتظامیہ کے خلاف بڑا حکم، آفیسران کی پروموشن سے روک دیا، تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) کو افسران کی ترقیوں سے روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ تک کسی افسر کی پروموشن سے متعلق کوئی حکم نامہ جاری نہ کرے۔
یہ احکامات جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کے ایک افسر سید حامد علی شاہ کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس، عدالت نے وزیراعظم کو 12 ستمبر کو طلب کرلیا عمران خان کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس، عدالت نے وزیراعظم کو 12 ستمبر کو طلب کرلیا تارکینِ وطن ہمارا فخر ہیں، اوورسیز مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کی ترجیح ہے: چوہدری جعفر اقبال لندن میں فلسطین کے حق میں احتجاج، 890 افراد گرفتار انسداد اسمگلنگ آپریشنز کے دوران 4 کروڑ 22 لاکھ روپے سے زائد کی منشیات برآمد چھبیس نومبراحتجاج کیس؛بشریٰ بی بی، عمر ایوب سمیت دیگرکی ضمانت میں توسیع کردی گئی ایران نے پابندیاں ختم کرنے کے بدلے جوہری پروگرام محدود کرنے کی آمادگی ظاہر کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔