حدیقہ کیانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عوام سے امداد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے سیلاب متاثرین کے لیے عوام سے امداد کی اپیل کی ہے۔
معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران عوام سے خوراک، کپڑوں، بستر، ادویات اور دیگر امدادی سامان فراہم کرنے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی نے وہ کر دکھایا جو حکومت بھی نا کر سکی
انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو بیان میں حدیقہ کیانی نے کہا کہ متاثرین کو فی الحال بنیادی ضروریات کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سردیوں کے لیے جیکٹس اور کمبل بھی درکار ہوں گے۔
حدیقہ کیانی نے رضاکار ڈاکٹروں کو بھی متاثرہ علاقوں میں کیمپ قائم کرنے کی دعوت دی، جہاں ملیریا جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by Hadiqa Kiani (@hadiqakianiofficial)
انہوں نے مویشیوں کی تباہ حال صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیشتر مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں جبکہ باقی بچ جانے والے مویشی چارے، ادویات اور ویٹرنری سہولیات کے محتاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حدیقہ کیانی سیلاب متاثرین کے لیے 100گھر تعمیر کرنے میں کامیاب
انہوں نے بتایا کہ عطیات لاہور کے ڈولمن مال (انٹرس 2)، فورٹرس اسٹیڈیم، شیخوپورہ سرکٹ ہاؤس، قصور ڈسٹرکٹ پبلک اسکول اور ننکانہ صاحب کے گورنمنٹ گورو نانک کالج میں قائم مراکز پر جمع کرائے جا سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں جو افراد براہِ راست سامان نہیں پہنچا سکتے وہ آرمی ریلیف فنڈ برائے سیلاب متاثرین میں بینک ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حدیقہ کیانی 2022 کے تباہ کن سیلاب میں بھی ریلیف سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں اور ان کی مہم ’وسیلۂ راہ‘ کے تحت بلوچستان کے دیہات کو گود لے کر 300 مکانات، ایک اسکول، زچگی کلینک اور مسجد تعمیر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ہائی کمیشن کی پاکستان سیلاب متاثرین کے لیے ایک کروڑ پاؤنڈز کی منظوری
قومی آفات سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں سال بھی مون سون سے جڑے واقعات میں 910 افراد جاں بحق اور 7 ہزار 850 مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 6 ہزار 180 مویشی ضائع ہو چکے ہیں۔
پنجاب میں 41 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جسے صوبے کی تاریخ کا بدترین سیلاب قرار دیا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی مکانات اور مال مویشیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پنجاب کے بعد یہ سیلاب سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں پہلے ہی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 1 لاکھ 28 ہزار سے زائد افراد کو نشیبی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی ریلیف فنڈ برائے سیلاب متاثرین امداد پاکستان حدیقہ کیانی رضاکار ریلیف سردی سیلاب عوام کمبل گرم کپڑے گلوکارہ مویشی میڈیسن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آرمی ریلیف فنڈ برائے سیلاب متاثرین پاکستان حدیقہ کیانی رضاکار ریلیف سیلاب عوام گرم کپڑے گلوکارہ مویشی میڈیسن سیلاب متاثرین کے لیے حدیقہ کیانی نے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔