باجوڑ (ویب ڈیسک) سابق وزیر ریلوے اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے باجوڑ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سیلاب سے شدید متاثرہ خاندانوں میں مالی امداد کے چیکس تقسیم کیے۔ اس موقع پر سعد رفیق نے خاص طور پر ہدایت دی کہ کسی بھی شخص کی تصویر بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تاکہ متاثرین کی عزت نفس اور پرائیویسی کا مکمل خیال رکھا جا سکے۔ اس اقدام کو سوشل میڈیا پر صارفین کی طرف سے بھرپور سراہا گیا۔

دورے کے دوران سعد رفیق نے کہا کہ باجوڑ ایک ایسا علاقہ ہے جو دہشت گردی، جوابی کارروائیوں، سیلاب، غربت، بے روزگاری اور بداعتمادی کے باعث زخم زخم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بار دورے کا مقصد صرف اور صرف متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرنا اور ان کے اعتماد و یقین کو بحال کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر خاندان کو 20 لاکھ روپے کے چیکس دیے گئے، جو وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے مطابق پہنچائے گئے۔

سعد رفیق نے مزید کہا کہ چیکس کی تقسیم کے دوران کسی بھی تصویر کی اجازت نہ دینا ایک شعوری اقدام تھا تاکہ متاثرین کی عزت نفس محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ “محبتیں اور مسکراہٹیں بانٹنا سب سے اہم ہے، اور متاثرین کی عزت نفس کو پامال کرنا کسی صورت درست نہیں۔”

اس موقع پر ضلع انتظامیہ نے مکمل انتظامات کیے، جبکہ سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید (JUI) اور دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔ سعد رفیق کے ہمراہ اختیار ولی خان، مبارک زیب خان اور شہاب الدین خان نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

سابق وزیر ریلوے نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے دورے کی تفصیلات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ کے لوگوں کو علاج، توجہ، اعتماد اور یقین کی ضرورت ہے، اور حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرین کی مدد کریں اور ان کے حقوق کا احترام کریں۔

یہ دورہ نہ صرف مالی امداد کی تقسیم کا موقع تھا بلکہ متاثرہ افراد کے ساتھ انسانی ہمدردی اور احترام کے جذبے کو بھی اجاگر کرنے کا موقع تھا، جسے مقامی لوگ اور سوشل میڈیا صارفین یکساں طور پر سراہ رہے ہیں۔

باجوڑ ( خار )—
اپنے کیمرے اب آف کر دیے جائیں تاکہ چیکس کی تقسیم کی جاۓ اور متاثرین میں سے کسی کی تصویر نہ بنائ جاۓ ۔ میں ایسی تصویریں بنانا مناسب خیال نہیں کرتا ۔۔ pic.

twitter.com/V4EQRoon04

— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 8, 2025

Post Views: 8

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سعد رفیق نے متاثرین کی انہوں نے کی تقسیم کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی