دنیا بھر کے 1,300 سے زائد فلم سازوں، اداکاروں اور انڈسٹری سے وابستہ شخصیات نے اسرائیلی فلمی اداروں کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان شوبز شخصیات نے اس بائیکاٹ کا اعلان غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف بطور احتجاج کیا۔

اسرائیلی فلمی اداروں کا بائیکاٹ کرنے والوں میں آسکر، بی اے ایف ٹی اے، ایمی اور کانز ایوارڈ یافتہ فنکار بھی شامل ہیں۔

عالمی شہرت یافتہ ستاروں اولیویا کولمین، خاویر بارڈیم، سوزان سرینڈن، مارک رفالو، رض احمد، ٹلڈا سوئِنٹن، جولیا ساولہا، کین لوچ اور جولیئٹ اسٹیونسن نے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

انھوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم اس خوفناک وقت میں خاموش نہیں رہ سکتے جب ہماری ہی حکومتیں غزہ میں خونریزی کو تقویت دے رہی ہیں۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم غزہ میں اسرائیلی مظالم میں کسی بھی قسم کی شراکت سے خود کو الگ کر لیں۔

اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے فنکاروں نے مزید کہا کہ وہ جنوبی افریقا کی نسل پرست حکومت کے خلاف چلنے والی مہم سے متاثر ہو کر اسرائیلی فلمی اداروں کے ساتھ کسی بھی سطح پر کام نہیں کریں گے۔

انھوں میں واضح کیا گیا ہے کہ اس بائیکاٹ میں فلمی فیسٹیولز، سنیما گھروں، براڈکاسٹرز اور پروڈکشن کمپنیوں سب کو شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ بائیکاٹ فلسطینی فلم سازوں کی اپیل کے بعد کیا گیا ہے جنھوں نے عالمی فلمی دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خاموشی اور لاتعلقی توڑیں اور اپنی اخلاقی ذمہ داری ادا کریں۔

ہالی ووڈز اسٹارز کے اس جرأت مندانہ بیان کو نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فلمی اداروں گیا ہے

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بچی کیساتھ زیادتی و قتل کے ملزم کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت، اہلخانہ کا لاش لینے سے انکار
  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • پاکستان سیریز سے قبل ویسٹ انڈیز کو بڑا دھچکا، اسٹار فاسٹ بولرکا کھیلنے سے انکار
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم