اسرائیل کا قطر میں حملہ، سینیئر حماس رہنما خلیل الحیہ شہید
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے دوحا میں موجود حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحا میں 6 دھماکے سنے گئے ہیں، حماس قیادت دوحا میں مذاکرات کے لیے موجود تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں حماس کی سینیئر قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس قیادت کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
قطر کی دارالحکومت دوحہ کے قطارا ڈسٹرکٹ میں متعدد دھماکے سنے گئے، جہاں دھوئیں کے بادل اڑتے دیکھے گئے۔ گواہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد کیٹرنگ ایریا سے اٹھتے ہوئے دھوئیں کا منظر سامنے آیا، اسرائیلی حملے میں حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ شہید ہوگئے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ان حماس اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا جو اکتوبر 7 کے حملے کی منصوبہ بندی، اس جنگ کے انتظام و انصرام میں شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل حماس حملہ خلیل الحیہ دوحا شہید قطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل حملہ خلیل الحیہ شہید
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔