شوگرملز مالکان کی من مانیاں؛ ناجائز منافع کیلیے کراچی میں چینی کی فراہمی بند کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
شوگر ملز مالکان نے ناجائز منافع خوری کیلیے من مانی کرتے ہوئے کراچی میں چینی کی سپلائی بند کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق منگل سے شوگر ملز مالکان نے شہر کی تھوک مارکیٹوں میں چینی کی ترسیل معطل کردی ہے۔ اس معاملے پر ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین روف ابراہیم نے بتایا کہ پیر 8 ستمبر تک ہول سیل مارکیٹ میں فی کلو ایکس مل چینی کی قیمت 175روپے تھی جبکہ فی کلو چینی کی تھوک قیمت 179روپے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے چینی کی درآمدی کنسائمنٹ پاکستان پہنچنے میں کم از کم تین ہفتے کا وقت درکار ہے لیکن شوگر ملز مالکان نے مصنوعی بحران پیدا کرکے مہنگے داموں اپنے چینی کے ذخائر کرنے کی غرض سے تھوک مارکیٹ میں چینی کی سپلائی جان بوجھ کر بند کردی ہے جسکے سبب کراچی کی تھوک مارکیٹوں میں اس وقت چینی فروخت کرنے کا کوئی دام مقرر نہیں ہے۔
تاجر رہنما رؤف ابراہیم کے مطابق ہول سیل مارکیٹ میں سپلائی کی بندش سے چینی کی فی کلوگرام قیمتوں میں یکدم اضافے کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کے شوگر ملز مالکان کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کرکے چینی کی سپلائی کو بحال کروائے تاکہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوگر ملز مالکان میں چینی کی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔