قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملے کے بعد قطر اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو خطے کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ بھی قرار دیا۔

قطری وزیراعظم نے منگل کی شب پریس کانفرنس میں کہا کہ قطر اس کھلے عام حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج خطہ ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گیا ہے اور اس طرح کے وحشیانہ اقدامات کے خلاف پورے خطے کو مشترکہ ردعمل دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: حماس رہنماؤں پر حملہ: قطر کی پیشگی امریکی اطلاع کی تردید، حماس نے امریکا کو حملے کا ذمہ دار قرار دیدیا

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حملے کے باوجود قطر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ‘ہماری خطے میں ثالثی کی کوششوں کو کچھ بھی روک نہیں سکتا۔’

دوسری طرف قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ ان کا ملک اپنی سلامتی کے تحفظ اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

قطر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اسرائیلی کارروائیاں خطے کے امن کو برباد کرنے کے مترادف ہیں اور قطر ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ قطر کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عالیہ احمد سعید آل ثانی نے اسرائیلی حملے کو بزدلانہ مجرمانہ اقدام قرار دیا جو تمام عالمی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دوحا میں اسرائیلی حملہ قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، انتونیو گوتریس

دوسری جانب قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر کو امریکی حکام کی جانب سے پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دعوے کہ قطر کو پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا بالکل غلط ہیں۔ ہمیں امریکی اہلکار کی کال اس وقت موصول ہوئی جب دوحہ میں اسرائیلی حملے کے دھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی حملہ امریکا حماس دوحا قطر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی حملہ امریکا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان