سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہے، عاطف اکرام شیخ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں چائنہ انٹرنیشنل ایکسپو کے حوالے سے پروموشنل ایونٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین نے معاشی اور تجارتی میدان میں شاندار تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو پاکستان کی ایکسپورٹ اور امپورٹ میں نمایاں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی مثال ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان کی چین کو امپورٹس اب بہتر ویلیو ایڈڈ اشیاء کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ چائنا انٹرنیشنل ایکسپو تجارت اور باہمی کاروباری تعاون بڑھانے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ ایکسپو اپنے برانڈز کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے، اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی اس میں نمایاں ترین شرکت کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے د کہا کہ سی پیک فیز ٹو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا نادر موقع ہوگا۔ ایف پی سی سی آئی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کر رہی ہے کہ پاکستان کی بھرپور نمائندگی چائنہ انٹرنیشنل ایکسپو میں ممکن بنائی جائے۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان میں زراعت، متبادل توانائی، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اطمینان بخش ہے، تاہم پاکستان میں چائنیز شہریوں کو درپیش سیکیورٹی مسائل سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ایونٹ کا انعقاد چائنہ انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک کے زیر اہتمام کیا گیا، جس سے اسلام آباد میں چائنیز سفارت خانے کے ٹریڈ منسٹر یانگ گوانگینگ، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو زائو بائو اور سی سی او آئی سی بی سی نے بھی خطاب کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین کے وارنٹ گرفتاری جاری افغان سر زمین سے دہشتگرد ہمارے بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے آتے ہیں: خواجہ آصف بھارت نے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا، ہریکے اور فیروز پور انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ایپل نے آئی فون 17 سیریز متعارف کرادی، اب تک کا سب سے پتلا اسمارٹ فون بھی شاملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور چین عاطف اکرام شیخ کا نادر موقع کہ پاکستان پاکستان کی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔