یورپی ایف کلاس چیمپئن شپ میں نشانہ باز اسد واحد کا شاندار کارنامہ، پاکستان کا پرچم بلند کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
پاکستان کے ماہر نشانہ باز اسد واحد نے یورپ کے سب سے بڑے شوٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھا کر دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے تاریخی بزلی شوٹنگ گراؤنڈ میں ہونے والی 2025 کی یورپی ایف کلاس چیمپئن شپ میں اسد واحد نے نہ صرف مشکل ترین موسمی حالات کا مقابلہ کیا بلکہ دنیا کے صفِ اول کے نشانہ بازوں کو بھی سخت ٹکر دی۔
رواں سال ہونے والا ایونٹ تاریخ کا سب سے بڑا اور سخت ترین مقابلہ ثابت ہوا جس میں امریکہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جنوبی افریقہ، آئرلینڈ، برطانیہ، پولینڈ، لیتھوانیا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے 400 سے زائد بہترین شوٹرز نے شرکت کی۔
اسد واحد نے ایف ٹی آر (F-TR) کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 208 عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کا مقابلہ کیا جن میں موجودہ عالمی چیمپئن، سابق یورپی چیمپئن اور مختلف ممالک کے نیشنل چیمپئنز شامل تھے۔
مقابلے میں شوٹرز کو 800، 900 اور 1000 گز کی فاصلوں پر نشانہ بازی کے چھ مراحل سے گزرنا پڑا۔ تیز بارش، آندھی اور بدلتے ہوئے ہواؤں کے جھکڑ نے ہر کھلاڑی کے لیے چیلنج کو مزید مشکل کردیا۔
ایسے مشکل ترین حالات میں بھی اسد واحد نے غیرمعمولی حوصلے، تحمل اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 90 گولیوں میں سے کُل 449 پوائنٹس حاصل کیے اور صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے ٹاپ تھری میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ اسد پانچویں نمبر پر رہے لیکن ٹاپ 5 میں شامل ہونے والے واحد غیر امریکی شوٹر بنے۔
یاد رہے کہ اس قبل اسد واحد 1000 گز کے مقابلے میں سلور میڈل بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسد واحد نے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔