ٹیکس چور کی اطلاع دیں اور ڈیڑھ کروڑ روپے تک انعام لیں، ایف بی آر نے گیم چینجنگ اقدامات وضح کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس چوری پکڑے کے لیے جدید اقدامات کا اعلان کر دیا جن میں ٹیکس چور کی اطلاع دینے والے شخص کے لیے بھاری انعامی رقم کی ادائیگی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس چوری ناقابل برداشت، 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے، وزیراعظم
اعلان کردہ اقدامات کے تحت محکمہ وسل بلوئنگ کا طریقہ کار متعارف کروا رہا ہے تاکہ شہری اور کمپنیاں خفیہ طریقے سے ٹیکس چوری کی اطلاعات دے سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے ایف بی آر پیشہ ورانہ فرموں کی خدمات بھی حاصل کر رہا ہے تاکہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور کاروباری اداروں و کمپنیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ٹیکس چور کی اطلاع دیں اور ڈیڑھ کروڑ روپے انعام لیں!ایف بی آر کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس چوری کی کامیاب اطلاع دینے والے کو زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ روپے تک انعامی رقم دی جائے گی اور یہ نظام مکمل طور خفیہ انداز میں چلایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی تیاری مکمل، بھاری جرمانے تجویز
ایف بی آر ٹیکس چوری روکنے کے لیے جن فرمز کی خدمات حاصل کرے گا وہ دستیاب ڈیٹا پر اپنی تحقیق کریں گی تاکہ بڑی ٹیکس لیکیج (چوری/کمی) کی نشاندہی کی جا سکے۔
ایف بی آر ان فرمز کی معاونت کے لیے ٹیکس ڈائریکٹری شائع کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔
انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے سے قبل یہ اقدام ایک ممکنہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سینیٹرز نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کو 10 سال قید سزا کی تجویز کو مسترد کردیا
فرمز اثاثہ جات کا ڈیٹا، گاڑیوں اور افراد و کاروباروں کے بڑے اخراجات کی بنیاد پر بھی ٹیکس چوری کی نشاندہی کریں گی۔
اطلاعات کے مطابق کئی اجلاس ممکنہ فرمز کے ساتھ ہو چکے ہیں تاکہ ان کی دلچسپی معلوم کی جا سکے اور ان فرمز نے نہایت مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ریئل اسٹیٹ شعبے کے لیے بڑا ریلیف، آئی ایم ایف پراپرٹی خریداری پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کرنے پر راضی
ممکنہ فرمز نے اپنی شمولیت کی یقین دہانی کرائی ہے کیونکہ اس میں کاروباری مواقع بھی ہیں اور قومی خدمت کا پہلو بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر ایف بی آر کی انعام کی پیشکش ٹیکس چور نشانے پر ٹیکس چوری بتانے پر بھاری انعام ٹیکس چوری کی روک تھام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ایف بی ا ر کی انعام کی پیشکش ٹیکس چور نشانے پر ٹیکس چوری بتانے پر بھاری انعام ٹیکس چوری کی ایف بی ا ر ٹیکس چور کی اطلاع کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔