اسلام آباد میں غیر ملکی مہمان کی آمد، ٹریفک پلان جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسلام آباد ٹریفک پولیس نے غیر ملکی مہمان کی آمد و رفت کے پیشِ نظر بدھ کو شام 5 بج کر 30 منٹ سے ساڑھے 7 بجے تک خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا۔ اس دوران ایکسپریس ہائی وے، مری روڈ، کلب روڈ، سرینہ اور ریڈیو پاکستان کے اطراف ٹریفک کی روانی متاثر رہے گی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ہیلمٹ آگاہی اور نفاذ مہم، 34 ہزار سے زائد سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی
ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایکسپریس ہائی وے سے منسلک سروس روڈ استعمال کریں، جبکہ ریڈ زون اور سرینہ ہوٹل آنے جانے والی ٹریفک مارگلہ روڈ، جناح ایونیو اور نادرا چوک سے گزاری جائے۔ مری روڈ سے سرینہ اور فیض آباد کا راستہ راول ڈیم کے ذریعے بند رہے گا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس کی شہری سے بدتمیزی: ‘تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیا کریں’
سی ٹی او کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے کہا ہے کہ شہری کسی بھی دشواری سے بچنے کے لیے کم از کم 20 منٹ اضافی وقت رکھ کر سفر کریں۔ ٹریفک پولیس اہلکار شہریوں کی رہنمائی کے لیے مختلف مقامات پر موجود رہیں گے جبکہ ہیلپ لائن 1915 اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ٹریفک پولیس سی ٹی او کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ٹریفک پولیس اسلام آباد ٹریفک پولیس
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔