ڈاکٹر ذاکر نائیک کا خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کی خبروں پر ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ذاکر نائیک کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں زیر گردش ہیں جس پر ان کا پہلا ردعمل سامنے آگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض ویب سائٹس پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے ذاکر نائیک ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور ملائیشیا کے اسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔
ان افواہوں میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ذاکر نائیک کی اہلیہ فرحت نائیک اور ان کی بیٹی کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی رپورٹس بھی وائرل کی گئی ہیں جنھیں ذاکر نائیک اور ان کے خاندان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
تاہم، اب تک اس حوالے سے کوئی مستند اور معتبر خبر رساں ادارہ یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ جس پر یہ افواہیں مزید طول پکڑ گئیں۔
تاہم اب خود ذاکر نائیک نے اپنے وکیل اکبر الدین عبدالقادر کے ذریعے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ذاکر نائیک مکمل طور پر صحت مند اور اپنے گھر پر ہیں۔
ذاکر نائیک کے وکیل نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان کی بیماری سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔
انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور نہ کسی افواہ پر کان دھریں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں متحرک اور مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ذاکر نائیک کو بھارت میں منی لانڈرنگ، نفرت آمیز تقاریر اور دہشت گردی میں مالی معاونت کے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا تھا۔
مودی سرکار نے اس پر بس نہ کی بلکہ ذاکر نائیک اور ان کے ادارے پر پابندیاں بھی لگائی گئیں۔ جس پر ذاکر نائیک 2016 میں بھارت سے ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ذاکر نائیک
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔