عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر ذاکر نائیک کی صحت کے حوالے سے تشویشناک خبریں زیر گردش ہیں جس پر ان کا پہلا ردعمل سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا اور بعض ویب سائٹس پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے ذاکر نائیک ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوگئے اور ملائیشیا کے اسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔

ان افواہوں میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ذاکر نائیک کی اہلیہ فرحت نائیک اور ان کی بیٹی کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی رپورٹس بھی وائرل کی گئی ہیں جنھیں ذاکر نائیک اور ان کے خاندان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

تاہم، اب تک اس حوالے سے کوئی مستند اور معتبر خبر رساں ادارہ یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ جس پر یہ افواہیں مزید طول پکڑ گئیں۔

تاہم اب خود ذاکر نائیک نے اپنے وکیل اکبر الدین عبدالقادر کے ذریعے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ذاکر نائیک مکمل طور پر صحت مند اور اپنے گھر پر ہیں۔

ذاکر نائیک کے وکیل نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان کی بیماری سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی قسم کے منفی پروپیگنڈے میں نہ آئیں اور نہ کسی افواہ پر کان دھریں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں متحرک اور مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ ذاکر نائیک کو بھارت میں منی لانڈرنگ، نفرت آمیز تقاریر اور دہشت گردی میں مالی معاونت کے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا تھا۔

مودی سرکار نے اس پر بس نہ کی بلکہ ذاکر نائیک اور ان کے ادارے پر پابندیاں بھی لگائی گئیں۔ جس پر ذاکر نائیک 2016 میں بھارت سے ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ذاکر نائیک

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق