ٹرمپ کا بڑا اعلان، یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ٹرمپ کا بڑا اعلان، یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے یورپی یونین حکام کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ امریکا روسی تیل کے بڑے خریدار ممالک، چین اور بھارت، پر مزید ٹیرف لگانے کے لیے تیار ہے لیکن یہ اقدام یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہی اٹھایا جائے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اس وقت بھی بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد اور چینی مصنوعات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کرچکا ہے، تاہم روس سے تیل خریدنے اور تجارتی ڈیل نہ کرنے کی وجہ سے ان دونوں ممالک پر دبا مزید بڑھایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا کراچی میں سیلابی صورتحال کا نوٹس، ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت وزیراعظم کا کراچی میں سیلابی صورتحال کا نوٹس، ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پر تشدد، بیرسٹر گوہر نے غیر مشروط معافی مانگ لی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا باضابطہ سرکلر جاری ،منظور شدہ مالی پیکج کی تفصیلات سب نیوز پر وفاقی پولیس میں اعلیٰ سطح پر اکھاڑ پچھاڑ ، ڈی آئی جی سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ، نوٹیفکیشن سب نیوز پر گریڈ 22کے افسر انعام اللہ خان دھریجو صدر مملکت کے سیکرٹری تعینات ، نوٹیفکیشن سب نیوز پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی امدادی پیکج کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یورپی یونین اور چین
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔