’’ وسیع تر  برکس تعاون‘‘ سے عالمی چیلنجز  کا مقابلہ کرنے  کے اعتماد میں اضافہ ہو گا ، سی ایم جی کا  تبصرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز

بیجنگ :8ستمبر  کے بر کس ممالک کے رہنماؤں کے آن لائن سمٹ کے بارے میں بین الاقوامی رائے کا مثبت اظہار سامنے آیا ہے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ  نے  سربراہی اجلاس  میں ” وسیع تر برکس  تعاون” کو فروغ دینے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے  کی تعمیر کے لیے  تین نکاتی تجاویز پیش کیں۔ شرکاء اجلاس   کا ماننا ہے  کہ برکس ممالک کو یکجہتی اور تعاون کو مستحکم کرنا چاہیے، مشترکہ طور پر بحرانوں اور چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے، اور ان کے خیال میں  صدر شی جن پھنگ  کی جانب سے پیش کردہ  گلوبل گورننس انیشی ایٹو   بنیادی مسئلے کا حل فراہم کرتا ہے، جس نے عالمی حکمرانی کی بہتری کے لیے سمت اور راستہ واضح کیا ہے۔
برکس تعاون کا طریقہ کار 2006 میں شروع ہونے کے بعد نہ صرف ترقی پذیر ممالک کی بڑی تعداد کے لئے مفید ثابت ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی امور میں ایک مثبت، مستحکم اور نیک نیتی کی طاقت بھی بن چکا ہے۔ “برکس ممالک کا تعاون جتنا زیادہ مضبوط ہوگا،  بیرونی  خطرات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی طاقت اتنی ہی زیادہ ہوگی، اور اس کے لیے اقدامات بھی زیادہ ہوں گے، اور نتائج بھی بہتر ہوں گے۔” صدر شی جن پھنگ کے الفاظ نے برکس ممالک کے تعاون کے ذریعے  بیرونی  چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے اعتماد کو مؤثر انداز میں بڑھایا۔  حال ہی میں شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ    گلوبل گورننس انیشی ایٹو  نے زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تشکیل اور بین الاقوامی  عدل  اور انصاف کی حفاظت کے لیے تازہ ترین حل فراہم کیا  گیا ہے ۔ کچھ ممالک کی جانب سے تجارت کو دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کے مقابلے میں، چینی حکومت نے کھلے پن  اور  جیت جیت  کے اصول پر قائم رہنے اور بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم و ضبط کے تحفظ کی تجویز پیش کی، جسے شریک رہنماؤں  کی جانب سے وسیع طور پر قبول کیا گیا اور  اس سےبین الاقوامی برادری کو مزید مستحکم توقعات بھی  ملی ہیں۔

قیام کے تقریباً 20 سال بعد، برکس  ممالک کے تعاون کو کیسے بہتر بنایا جائے؟ چین کا کہنا ہے کہ ہمیں اتحاد اور تعاون پرعمل کرنا چاہئے، مشترکہ ترقی کے لئے طاقت کو  یکجا  کرنا چاہئے۔  چین  گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو  پر عمل درآمد کے لئے دیگر  برکس  ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے  کے لیے تیار ہے  ۔   مستقبل میں،  برکس  تعاون    اقتصادی، مالی، اور سائنسی و تکنیکی شعبوں میں مزید تعاون کے نتائج پیدا کرے گا، جس سے ‘ وسیع تر برکس  تعاون’ کی بنیاد مزید مضبوط، طاقتور، اور اثر و رسوخ میں زیادہ ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹرمپ کا بڑا اعلان، یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ اگلی خبربانی پی ٹی آئی کی نیب، پولیس، ایف آئی اے کی کارروائیاں روکنے کی درخواست مقرر ٹرمپ کا بڑا اعلان، یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ برطانیہ میں ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی ایکوپمنٹ انٹرنیشنل ایکسپو 2025 میں شرکت کرنیوالے سعودی پویلین کا باضابطہ افتتاح اسرائیلی حملے ریاستی دہشتگردی، بھرپور جواب دیں گے: قطری وزیراعظم کا اعلان پرتشدد مظاہرے، نیپال میں فوج نے مختلف علاقوں میں پوزیشن سنبھال لی قطر پر حملے کا حکم کس نے دیا؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے اصل ذمہ دار کا نام بتادیا عالمی ترقی کے حوالے سے چیلنجز اور مواقع ایک ساتھ موجود ہیں ، چینی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کا مقابلہ

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ