پنجاب کے ضلع ملتان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور حکام نے اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب کراچی میں بھی صورت حال سنگین ہے۔

سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر کے مطابق شہر کو بچانے کے لیے سیلاب کا رخ بستی لانگ، بستی کنہوں اور بہادر پور کی جانب موڑا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف اور نقصان کا تخمینہ لگانے کا حکم

انہوں نے کہاکہ پانی جن بستیوں میں جائےگا، انہیں خالی کرنے کے اعلانات کروائے جارہے ہیں، شگاف ڈالنے کا فیصلہ شہر کو بچانے کے لیےکیا گیا۔

صادق علی ڈوگر کے مطابق جلال پور شہر کو بچانےکے لیے بنائے گئے عارضی بند پر پانی کا دباؤ کم نہیں ہورہا تھا۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہیڈ پنجند، سدھنائی اور گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈسلیمانکی، ہیڈ اسلام ، میلسی سائفن پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ گڈوبیراج، سکھربیراج، تریموں اوربلوکی پردرمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دوسری جانب کراچی میں بھی سیلاب کے باعث صورت حال انتہائی سنگین ہے، اور اب تک 7 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کراچی میں دو روز سے جاری وقفے وقفے کی بارشوں نے شہر کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ مختلف حادثات اور واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی، جبکہ تین افراد تاحال لاپتا ہیں۔ بارشوں کے نتیجے میں ملیر اور لیاری کی ندیاں طغیانی کے باعث دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں اور نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔

حکام کے مطابق بارش کے بعد کئی علاقوں میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ میئر کراچی کی درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ نے فوج کو طلب کیا، جس کے بعد پاک فوج، رینجرز اور ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے متعدد متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق گڈاپ ٹاؤن میں کونکر ندی میں ڈوبی ہوئی ایک کار سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئیں، جن کی شناخت 60 سالہ نبو گلاب اور 45 سالہ جاوید شاہ کے نام سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق 18 سالہ احمد قادر کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا، جس کی لاش نارتھ ناظم آباد سے عباسی شہید اسپتال لائی گئی۔

ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ ملیر ندی میں ڈوبنے والے دو افراد میں سے ایک شخص، مصطفیٰ علی گلاب کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے شہری فاران اکرم کی تلاش جاری ہے۔ ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد اور ڈپٹی کمشنر ملیر بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے موقع پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے بے پناہ جانی اور اقتصادی نقصان ہوا، وزیراعظم کا ملک میں موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان

ادھر شہر میں مسلسل بارش کے باعث کئی ڈیم بھر گئے اور اوور فلو ہونے سے پانی سعدی ٹاؤن اور اسکیم 33 کے متعدد رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، جس سے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ریسکیو سرگرمیاں سنگین صورت حال سیلاب کراچی ملتان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریسکیو سرگرمیاں سنگین صورت حال سیلاب کراچی ملتان وی نیوز کراچی میں صورت حال کا سیلاب کے مطابق شہر کو کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا