وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مریم اورنگزیب کا بلوچ واہ بند کا دورہ، شگاف کی فوری مرمت کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ملتان:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر سینئر منسٹر مریم اورنگزیب رات گئے صوبائی وزرا کے ہمراہ جلال پور پیر والا کے نواحی علاقے بلوچ واہ بند پر پہنچیں۔
ان کا دورہ سیلابی صورتحال کے باعث بند میں پڑنے والے شگاف کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا۔
سینئر منسٹر نے بستی بہاراں کے قریب متاثرہ بند کا دورہ کیا جہاں سیلابی دباؤ سے شگاف پڑ چکا تھا۔ انہوں نے موقع پر موجود افسران سے شگاف کی نوعیت، متاثرہ آبادی اور جاری مرمتی کاموں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
دورے کے دوران صوبائی وزیر آبپاشی کاظم پیر زادہ اور سیکرٹری آبپاشی نے مریم اورنگزیب کو تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے مرمتی کاموں کی رفتار، مشینری کی دستیابی اور حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
مریم اورنگزیب نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ بند کے شگاف کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ نزدیکی آبادی کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، رانا سکندر حیات اور پارلیمانی سیکرٹری ضیاء اللہ شاہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔