قطر پر حملہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن جیسا ہے، نیتن یاہو
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے قطر پر فضائی حملے کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے امریکی آپریشن سے تشبیہ دے دی۔
ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ 11 ستمبر امریکا کے لیے سب سے المناک دن تھا، اسی طرح 7 اکتوبر کا دن یہودی عوام کے لیے بدترین المیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے نائن الیون کے بعد دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر ختم کرنے کا عزم کیا اور وہ جہاں بھی تھے، انہیں نشانہ بنایا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے قطر میں ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو 7 اکتوبر کے حملوں کے ذمہ دار تھے۔ ان کے مطابق قطر نہ صرف انہیں پناہ دیتا ہے بلکہ مالی اور پرتعیش سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی بالکل اسی طرح کی گئی جیسے امریکا نے افغانستان میں القاعدہ کے جنگجوؤں اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے تنقید کرنے والے ممالک کو شرم دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکا نے اسامہ بن لادن کو مارا تو کسی نے پاکستان یا افغانستان کے لیے افسوس نہیں کیا بلکہ دنیا نے امریکا کی تعریف کی تھی۔ ان کے مطابق اب دنیا کو اسرائیل کے اقدامات کی بھی حمایت کرنی چاہیے۔
نیتن یاہو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا: "میں قطر اور دیگر ممالک کو خبردار کرتا ہوں کہ یا تو دہشت گردوں کو ملک سے نکالیں یا انہیں عدالت میں لائیں، ورنہ ہم خود کارروائی کریں گے۔"
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسامہ بن لادن نیتن یاہو نے نے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔