ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران اور اہلیہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس: عمران اور اہلیہ کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران اور ان اکی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈز کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2 بار کہا کہ پراسیکیوٹر تعینات نہیں ہوئے، پھر پراسیکیوٹر نے پیش ہو کر کہا کہ ہمیں وقت دیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ نے یہ پرانی باتیں ہو گئی ہیں، جس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ 5 تاریخیں ہوگئی ہیں، ہمارا کیس نہیں لگ رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کونسی درخواست ہے جو آج فکس ہے؟، سلمان صفدر نے کہا کہ ہماری جلد سماعت کی دو متفرق درخواستیں ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ بانی والے کیس میں نوٹس ہوا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ نوٹس تو بہت پہلے ہو چکا، اس کے بعد نیب نے تاریخیں لیں، ہم نے کبھی میڈیکل گراؤنڈ نہیں لیا، بشریٰ بی بی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں، دونوں کو تمام مقدمات میں بریت یا ضمانت مل چکی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس بھی جلد از جلد چل رہا ہے، میں چاہتا ہوں کہ سزا معطلی درخواستوں پر جلد فیصلہ ہو جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ رجسٹرار آفس کو کیس جلد مقرر کرنے کی ہدایت کر دی ہے، اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتے کیس مقرر نہیں ہوتا تو پھر یہ تمام مشق لاحاصل ہے، اگر کیس آئندہ ہفتے مکمل نہ ہوا تو پھر سال کے لیے مقرر نہ ہو، میں نہیں آؤں گا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ میں رپورٹ منگوا کر دیکھ لیتا ہوں۔
یاد رہے کہ 17 جنوری 2025 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 14 سال قید اور ان کی اہلیہ مجرمہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنا دی تھی، جس کے بعد بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے عمران خان پر 10 لاکھ اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جرمانے کی عدم ادائیگی پر عمران خان کو مزید 6 ماہ جب کہ بشریٰ بی بی کو 3 ماہ کی قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری جلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری بارش کے بعد کئی ’’برساتی مینڈک‘‘ نکل آئے جو افواہیں پھیلا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے امریکی صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک قاتلانہ حملے میں ہلاک نیتن یاہو نے قطر پر حملے کو پاکستان میں بن لادن کیخلاف امریکی آپریشن سے تشبیہ دے دی نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی سزا معطلی
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔