عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی سینیٹ کی کتنی کمیٹیوں کی سربراہی سے مستعفی ہوجائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان سے گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد علیمہ خان نے کہاکہ عمران خان نے پارٹی سے وابستہ تمام سینیٹرز کی بھی تمام کمیٹیوں سے فوری طور پر مستعفی ہونے کی ہدایت کی ہے۔
اگر پی ٹی آئی کے تمام سینیٹرز پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائیں تو تحریک انصاف 8 کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہو جائے گی۔
ارکان قومی اسمبلی کے کمیٹیوں سے مستعفی ہونےکے باعث پی ٹی آئی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت قومی اسمبلی کی 5 کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی تمام قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی، ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان
پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 84 کمیٹیاں فعال ہیں، جن میں سے قومی اسمبلی کی اسپیشل اور دیگر قائمہ کمیٹیوں سمیت 43 کمیٹیاں ہیں۔
دوسری جانب سینیٹ کی مجموعی طور پر 41 کمیٹیاں ہیں،جن کی سربراہی حکومت اور اپوزیشن ارکان کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے اراکین سینیٹ کی 8 مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں، یعنی سینیٹ کی کل 41 کمیٹیوں میں سے 8 کمیٹیوں کی سربراہی پی ٹی آئی کے پاس ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی پارٹی کو سینیٹ کمیٹیوں سے بھی مستعفی ہونے کی ہدایت، چند روز میں نیا لائحہ عمل دینے کا اعلان
سینیٹ کمیٹی برائے اختیارات کی منتقلی کی چیئرپرسن سینیٹر زرقا سہروردی تیمور ہیں۔ اکنامک افیئرز کے چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو، صنعت و پیداوار کے چیئرمین سینیٹرعون عباس پبی، اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹرعلی ظفر، داخلہ و انسداد منشیات کمیٹی کے چیئرمین فیصل سلیم رحمان ہیں۔
اسی طرح اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذیشان خانزادہ ہیں، توانائی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر محسن عزیز اور پارلیمانی امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ہمایوں مہمند ہیں۔
اگر پی ٹی آئی سے وابستہ سینیٹرز قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ کمیٹیوں سے بھی استعفےٰ دیتے ہیں تو پی ٹی آئی سینیٹ کی 8 کمیٹیوں کی سربراہی سے محروم ہو جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل اوورسیز پاکستانیز پاکستان تحریک انصاف چیئرپرسن زرقا سہروردی تیمور سیف اللہ ابڑو سینیٹ سینیٹرز علی ظفر علیمہ خان عمران خان عون عباس محسن عزیز ہمایوں مہمند ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کمیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل اوورسیز پاکستانیز پاکستان تحریک انصاف چیئرپرسن زرقا سہروردی تیمور سیف اللہ ابڑو سینیٹ سینیٹرز علی ظفر علیمہ خان ہمایوں مہمند کمیٹیوں کی سربراہی سے کے چیئرمین سینیٹر کمیٹی کے چیئرمین تحریک انصاف قومی اسمبلی کمیٹیوں سے مستعفی ہو سے مستعفی پی ٹی آئی سینیٹ کی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔