کراچی (نیوز ڈیسک) ملک کے بڑے شہروں میں موبائل ایپس کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے کے بڑھتے واقعات کے بعد ماہرین نے بینک ایپس کو محفوظ رکھنے کے لیے اہم اقدامات تجویز کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہیکرز اور ڈاکو اب شہریوں کے بینک اکاؤنٹس تک براہِ راست رسائی حاصل کر رہے ہیں، جس کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہری اپنی رقم اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اصول اپنائیں۔

سب سے پہلے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بینک اکاؤنٹ کھلوائیں اور جس بینک ایپ کو موبائل پر انسٹال کریں، اس میں 10 ہزار روپے سے زیادہ رقم نہ رکھیں۔ بڑی رقم دوسرے اکاؤنٹ میں رکھیں اور اس کی ایپ کو موبائل پر انسٹال نہ کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون میں ایپ لاک یا سکیور فولڈر استعمال کریں اور بینک ایپ پر “ایپ ہیڈر” لگائیں تاکہ وہ ڈاکوؤں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اسی طرح بینک ایپ کو کبھی بھی ہوم اسکرین پر نہ رکھیں بلکہ کسی پوشیدہ یا کم استعمال ہونے والے فولڈر میں منتقل کر دیں۔

بایومیٹرکس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صرف فنگر پرنٹ یا فیس لاک پر انحصار نہ کریں کیونکہ یہ زبردستی استعمال کروائے جا سکتے ہیں۔ اس کے بجائے بایومیٹرکس کے ساتھ پن کوڈ یا پاس ورڈ کا امتزاج اپنایا جائے۔

سب سے اہم تجویز یہ دی گئی ہے کہ شہری “پینک لاک ایپس” انسٹال کریں، جو مخصوص کوڈ پر پورے موبائل کو لاک کر دیتی ہیں یا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بینک ایپس کے لاگ ان اور پاس ورڈ کو کبھی بھی موبائل میں محفوظ نہ کریں کیونکہ یہ اقدام خودکشی کے مترادف ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ ہر شہری اپنے بینک کا “فوری بلاک سروس کوڈ” یاد رکھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں دوسرے فون سے اپنا اکاؤنٹ بند کرا سکے۔

سائبر کرائم وارننگ کے مطابق یہ صرف ڈاکوؤں کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل ہیکرز کا بھی خطرہ ہے۔ شہری اگر محتاط نہ ہوئے تو ان کی محنت کی کمائی، خواب اور سکون سب کچھ چند لمحوں میں ختم ہو سکتا ہے۔

Post Views: 8.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماہرین نے بینک ایپ

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار