لاہور:

پنجاب حکومت نے صوبے کے چار تاریخی مقامات پر دوبارہ کھدائی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی قدیم حیثیت اور اہمیت کے بارے میں مزید شواہد سامنے لائے جا سکیں۔

حکام کے مطابق یہ کھدائی ٹیکسلا، قلعہ روہتاس، ٹلہ جوگیاں اور چولستان کے قلعوں پر اکتوبر سے شروع ہوگی۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق کھدائی کا عمل فروری تک جاری رہے گا اور اس کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ چولستان میں موجود 21 قلعوں میں سے سات اب بھی اپنی اصل حالت میں ہیں اور ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ڈویلپمنٹ منصوبوں کے لیے 800 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

سیکریٹری سیاحت و آثارِ قدیمہ پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا ہے کہ محکمے کا کام صرف پرانی عمارتوں کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ نئی دریافتوں کو سامنے لانا بھی ہے۔ ان کے مطابق کھدائی کے اس منصوبے سے پنجاب اور اس خطے کی تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو اجاگر ہونے کی توقع ہے۔

ٹیکسلا بدھ مت کے دور کی اہم گندھارا تہذیب کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں 1913 سے وقفے وقفے سے کھدائی ہوتی رہی ہے جس میں قدیم بدھ مت خانقاہوں، اسٹوپوں اور مجسموں کے کئی اہم شواہد ملے۔ قلعہ روہتاس مغل دور کا قلعہ ہے جو شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی میں تعمیر کروایا۔ اسی طرح، جہلم کے قریب واقع ٹلہ جوگیاں کو صوفی اور ہندو سنتوں کا قدیم مقام سمجھا جاتا ہے جہاں مختلف ادوار میں خانقاہی سرگرمیاں جاری رہیں۔

اسی طرح، چولستان ریگستان میں موجود قلعے وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان تجارتی راستوں کی نگرانی کے لیے بنائے گئے تھے۔ ان میں قلعہ دراوڑ سب سے نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق سخت موسمی حالات کے باوجود ان قلعوں کے باقیات آج بھی صدیوں پرانی تاریخ کا پتہ دیتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد حمید کے مطابق قدیم ہیریٹیج سائٹس پر نئی کھدائی وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ان مقامات سے متعلق شواہد محدود ہیں، جن سے معلوم ہوسکے کہ صدیوں پہلے ان کی سیاسی، مذہبی اور سماجی حیثیت کیا تھی۔ جب تک ہمارے پاس ٹھوس شواہد نہیں ہوں گے، ہم ان کی اصل حالت بحال نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہ مقامات محفوظ اور تحقیق کے قابل ہوں تاکہ ان کی تاریخی اہمیت دنیا کے سامنے پیش کی جا سکے۔

ماہرآثار قدیمہ اور پنجاب آرکیالوجی کے سابق ڈائریکٹر افضل خان کہتے ہیں کہ ماضی میں آرکیالوجیکل سائٹس کی محدود پیمانے پر کھدائی کی جاتی رہی ہے۔ اتنی ہی کھدائی کی جاتی تھی جسے بعد میں محفوظ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اب چونکہ جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کی نئی تکنیک سامنے آچکی ہیں تو امید ہے کہ ان مقامات پر کھدائی سے نئے نوادرات حاصل ہوں گے جو تحقیق میں معاونت سمیت عجائب گھروں میں رکھے جائیں۔

پنجاب آرکیالوجی کے ایک اور سابق ڈائریکٹر ملک مقصود احمد کے مطابق ماضی میں کئی مقامات پر کھدائی کروائی گئی لیکن وہ محدود حد تک تھی۔ پنجاب میں پہلی بار آرکیالوجی کو اتنا بجٹ ملا ہے اور اتنی ترجیح دی جا رہی ہے کہ قدیم سائٹس پر دوبارہ کھدائی شروع کی جائے گی۔

ڈاکٹر احسان بھٹہ نے بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ اور پنجاب ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت ان منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کھدائی سے حاصل ہونے والے شواہد کو تحقیق کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی قابلِ رسائی بنایا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان تاریخی مقامات کی کھدائی سے نئے شواہد سامنے آتے ہیں تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے برصغیر کی قدیم تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز

پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن