سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ، محکمہ موسمیات کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
محکمہ موسمیات اور فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن نے دریائے سندھ، ستلج اور چناب سمیت مختلف دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کے خدشے سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
بارشوں کا حالیہ اور آئندہ امکانمحکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں 15 ستمبر تک کوئی نمایاں بارشی سسٹم متوقع نہیں، تاہم ایک مغربی ہوا کا سلسلہ 15 ستمبر کی شب سے بالائی علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
فورکاسٹ بولیٹنز:11 ستمبر 2025
???? ????وارننگ: گڈوو اور سکھر بیراج
????دریاؤں کے اہم مقامات پر متوقع پانی کی آمد و سیلابی سطح کے ساتھ کیچمنٹ اور مختلف علاقوں میں بارش کی پیشنگوئی۔ pic.
— FFDLahore (@ffdlhr) September 11, 2025
گزشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی، اورنگی، گلشن، سرجانی ٹاؤن اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں بارش ریکارڈ کی گئی۔
دریاؤں میں سیلابی صورتحال تشویشناک دریائے ستلج اور گنڈا سنگھ والادریائے ستلج اور گنڈا سنگھ والا میں اس وقت انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
11 ستمبر دوپہر 12 بجے دریاؤں کے اہم مقامات پر پانی کے بہاؤ اور سیلابی سطح کی صورتحال۔ pic.twitter.com/MO6yZoImi3
— FFDLahore (@ffdlhr) September 11, 2025
اسی طرح سلیمانکی اور اسلام کے مقامات پر بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
دریائے چنابپنجند کے مقام پر دریائے چناب میں غیر معمولی اونچا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، جبکہ تریموں کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب دیکھا جا رہا ہے۔
دریائے راویسدھنائی کے مقام پر دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ نچلے درجے پر ہے۔
دریائے جہلمدریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کوٹلی میں پانی کا بہاؤ نچلے درجے پر ہے۔
دریائے سندھماہرین کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں متاثرین سیلاب کے لیے بڑا ریلیف پیکیج تیار
اسی طرح سکھر کے مقام پر بھی آئندہ 48 گھنٹوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کی ہدایتچیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر کے مطابق دریاؤں کے اطراف میں آباد لوگوں کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
متعلقہ اداروں کو بھی پیشگی اقدامات اٹھانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اونچے درجے کا سیلاب میں اونچے درجے محکمہ موسمیات کے مقام پر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :