جلالپور پیر والا بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ملتان:
دریائے چناب کے بپھرنے سے ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا چاروں جانب سے بڑے سیلابی ریلے کی زد میں آگیا جبکہ اوچ شریف سپرہائی وے پر لگایا گیا شگاف بھی مزید بڑا ہوگیا، ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور دیگر وزراء نے بھی جلال پور پیر والا کے نواحی گاؤں 86ایم بند پر ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔
سینیئر وزیر مریم اورنگزیب انخلا آپریشن کے لیے خود اسپیکر پر اعلان کرتی رہیں جبکہ کمشنر ملتان اور دیگر حکام بھی جلال پور پیر والا میں موجود ہیں جہاں صبح 6 بجے سے آپریشن جاری ہے۔
تحصیل جلالپور کے 90 فیصد نواحی علاقے اب تک زیر آب آچکے ہیں جبکہ اوچ شریف پر شگاف سے سیلاب کی زد میں آنے والی بستیوں سے بھی انخلا جاری ہے۔
دوسری جانب، دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 60 ہزار کیوسک ہے اور پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 50 ہزار کیوسک تک آ گیا ہے۔
دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پانی کا بہاؤ 92 ہزار کیوسک اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 94 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 78 ہزار کیوسک ہے، پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے۔
دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 82 ہزار کیوسک ہوگیا اور جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 23 ہزار کیوسک تک آ چکا ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک اور بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 63 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے اور پانی کا بہاؤ کم ہو رہا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کی شدت میں کمی سے دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے، دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ رک چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کا بہاؤ ہزار کیوسک ہے پیر والا
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔