فیصل آباد: ایتھوپیا وزٹ ویزے کی آڑ میں یورپ جانے کی کوشش ناکام، تین مسافر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
لاہور:
ایتھوپیا وزٹ ویزے کی آڑ میں سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش ناکام ہوگئی، ایف آئی اے امیگریشن فیصل آباد نے تین مسافروں کو آف لوڈ کرکے حراست میں لے لیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافروں میں عاطف شفیق، محمد سفیان اور عبدالرحمان شامل ہیں، مسافر فلائٹ نمبر FZ-356 کے ذریعے وزٹ ویزے پر ایتھوپیا جا رہے تھے، مسافروں کا تعلق منڈی بہاء الدین، گجرانوالہ اور بھمبر سے ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن کلیئرنس کے دوران مسافروں کو مشکوک پایا گیا، مسافروں کو ایتھوپیا وزٹ ویزے کی آڑ میں لیبیا جانا تھا بعد ازاں لیبیا سے غیر قانونی سمندر کے راستے یورپ جانا تھا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایجنٹوں کی نشاندہی کیلئے مسافروں کو کمپوزٹ سرکل فیصل آباد منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسافروں کو وزٹ ویزے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔