پنجاب سخت ترین آفت کا مقابلہ کررہاہے، آٹے کی قیمت میں اضافہ برداشت نہیں،عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
لاہور : وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب نے وفاق سمیت کسی سے مدد نہیں مانگی، اپنے وسائل سے سخت ترین آفت کا سامنا کر رہا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جلال پور پیر والا میں صورتحال سنگین ہے، جلال پورپیروالا میں جہاں غفلت اور کوتاہی نظر آئی اس کو درست کرنے کی کوشش کی گئی، کل جلال پورپیروالا میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے وزیراعلیٰ خود ملیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں دو ہیڈز پر تشویشناک سیلابی صورتحال نہیں ہے، ٹیکنیکل کمیٹی بند توڑنے کا فیصلہ کرے گی، بند توڑنے کے عمل میں کوئی سیاسی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ٹیکنیکل کمیٹی دیکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب نے وفاق سمیت کسی سے مدد نہیں مانگی، پنجاب جو بھی کر رہا ہے اپنے وسائل سے کررہا ہے، صوبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 490 میڈیکل کیمپس اور 412 ویٹرنری کیمپ موجود ہیں، جہاں متاثرین اور ان کے مال مویشیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کل ایک پرائیویٹ کشتی چلانے کا واقعہ سامنے آیا، پرائیویٹ کشتی والا سیلاب زدگان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے پیسے مانگ رہا تھا، سیلاب میں گھرے جلال پور پیر والا کے اسسٹنٹ کمشنر کو ناقص انتظامات پر عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خانیوال میں گندم کو بروقت محفوظ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے گندم خراب ہوئی، حکومت پنجاب کی جانب سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو 3 دن کا وقت دیا گیا تھا، اس وقت پنجاب میں گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، مصنوعی قلت پیدا کر کے آٹے اور روٹی کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی گندم کے ایک ایک دانے پر نظر مرکوز ہے، اس وقت گندم کے ریٹ میں 700 روپے فی من کمی دیکھی جا رہی ہے، آٹے کی قیمت میں ناجائز اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ سعودی حکومت، شاہ فیصل ٹرسٹ کی جانب سے آنے والا امدای سامان کل متاثرین میں تقسیم کیا، وزیراعلیٰ مریم نواز خود سیلاب متاثرین کیلئے ایک بڑے امدادی پیکج کا اعلان کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ نے کہا
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس