ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبا یونین الیکشن کے نتائج پر سعد رفیق کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبا یونین الیکشن کے نتائج پر سعد رفیق کا بیان سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 September, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کے نتائج کو بنگلادیش کے عام انتخابات میں پاکستان کے حامیوں کے جیت کی بنیاد قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ طلبہ یونین انتخابات میں بنگلادیش اسلامی چھاترو شبر کی جیت تحریک اسلامی بنگلادیش کے اکابر و کارکنان کی انتھک، طویل اور عظیم جدوجہد کے ثمر کا آغاز ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ان کارکنان نے نظریہ پاکستان سے وفا کی قیمت دہائیوں تک تن تنہا اپنے روح و بدن کی قربانیوں سے ادا کی، وہ نہ ہی جھکے اورنہ پیچھے ہٹے اور ہرحال میں سربلند رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی چھاترو شبر کی کامیابی بنگلادیش کے آئندہ عام انتخابات میں پاکستان کے حامیوں کی کامیابی اور خطے میں طاقت کا توازن درست کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ڈھاکا یونیورسٹی میں ہونے والے طلبہ یونین انتخابات میں پہلی مرتبہ بنگلادیش اسلامی چھاترو شبر کے حمایت یافتہ پینل نے کلین سوئپ کیا ہے۔ انتخابات میں صادق قائم نائب صدر، ایس ایم فرہاد جنرل سیکرٹری اور محی الدین خان اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرطانیہ کی معاونت سے پاکستان میں انسداد منشیات کیلئے جدید ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم کا آغاز برطانیہ کی معاونت سے پاکستان میں انسداد منشیات کیلئے جدید ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم کا آغاز سینیٹر فلک ناز چترالی نے بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹیز سے استعفیٰ دیدیا، پی ٹی آئی کے مستعفی سینیٹرز کی تعداد 10ہو گئی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر مملکت نے شام کو 1.65ملین بیرل خام... سعودی کمپنی نے سیلاب متاثرین کیلئے ہزاروں لیٹر تیل پاکستان کے حوالے کردیا اسسٹنٹ کمشنرجلالپور پیروالا ذوالفقار علی خان کو ناقص کارکردگی پرعہدے سے ہٹایا دیا گیا بحریہ ٹاون کراچی میں بکنگ، خریدوفروخت اور اشتہارات پر مکمل پابندی عائد، پرویژنل این او سی بھی منسوخ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈھاکا یونیورسٹی میں سعد رفیق
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان
لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔
حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔
کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے
الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔
کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔
مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار
ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔
انتخابی مہم عروج پرآزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟
اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن