قطر آئندہ اتوار اور پیر کو ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں حالیہ اسرائیلی حملے پر غور کیا جائے گا جس نے دوحا میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔

قطری نیوز ایجنسی کے مطابق اجلاس میں اسلامی دنیا کے اہم رہنما شریک ہوں گے۔

اس سے قبل مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی منگل کو دوحا پہنچے اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات میں اسرائیلی حملوں کے بعد قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

پاکستان کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی قطر کا دورہ کیا اور امیر قطر سے ملاقات میں حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کھلا حملہ قرار دیا۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے تناظر میں قطر کی قیادت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے قطر کا دورہ کیا اور قطر کے امیر، عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے 9 ستمبر کو دوحہ پر اسرائیلی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے… pic.

twitter.com/h0TpwSbv6I

— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) September 11, 2025

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں برادر ملک قطر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔

وزیراعظم نے غزہ میں قیامِ امن کے لیے قطر کے تعمیری ثالثی کردار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی مسلسل جارحیت کو روکنے کے لیے امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے
دوحہ ائیرپورٹ پر قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاع عزت مآب شیخ سعود بن عبد الرحمن بن حسن الثانی نے وزیراعظم کا استقبال کیا pic.twitter.com/LehQXLN9FR

— WE News (@WENewsPk) September 11, 2025

مزید پڑھیں: نیتن یاہو نے یرغمالیوں کی رہائی کی امید ختم کر دی، قطری وزیراعظم

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے قطر کی درخواست پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر غور کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی تھی۔

دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلامی سربراہی اجلاس پاکستان قطر وزیراعظم محمد شہباز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلامی سربراہی اجلاس پاکستان وزیراعظم محمد شہباز شریف محمد شہباز شریف اسرائیلی حملے کے لیے قطر کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری