موسیقی کے عالمی مقابلے میں اسرائیل شریک ہوا تو بائیکاٹ کریں گے؛ آئرلینڈ
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
آئرلینڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل اگلے سال ہونے والے یورپی ممالک کے موسیقی کے عالمی مقابلے یوروویژن میں شریک ہوا تو وہ اس ایونٹ کا حصہ نہیں بنے گا۔
آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت نے اس بات کا اعلان کابینہ میں کئی گھنٹوں کے تبادلہ خیال کے بعد کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان اور انسانی المیے کے باوجود اسرائیل کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونا اخلاق سے گری ہوئی بات ہوگی۔
آئرلینڈ کا یہ فیصلہ اب یورپی نشریاتی یونین (EBU) کے پاس توثیق کے لیے جائے گا جس پر جولائی میں رکن ممالک کی جنرل اسمبلی میں بحث بھی کی گئی تھی۔
یاد رہے کہ آئرلینڈ نے اب تک یوروویژن سنگ کانٹیسٹ 7 مرتبہ جیتا ہے جو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔
اس سے قبل اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بھی کہا تھا کہ جیسے روس کو یوکرین پر حملے کے بعد 2022 سے یوروویژن میں شرکت سے روک دیا گیا ویسے ہی اسرائیل کو بھی باہر رکھا جانا چاہیے تاکہ ’’ثقافتی دوہرے معیار‘‘ سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ یوروویژن سنگ کانٹیسٹ یورپی نشریاتی یونین (EBU) اپنے رکن ممالک کے سرکاری نشریاتی اداروں کے تعاون سے منعقد کرتا ہے جن کی تعداد 35 سے زائد ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔