میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کی 60 ویں برسی پر افواج پاکستان کا خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
افواج پاکستان نے میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کی 60 ویں برسی کے موقع پر ان کی لازوال قربانی اور غیر معمولی بہادری کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، جنرل ساحر شمشاد مرزا (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی)، ایڈمرل نوید اشرف (چیف آف نیول اسٹاف) اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو (چیف آف ائیر اسٹاف) نے مشترکہ طور پر میجر عزیز بھٹی شہید کی قربانی کو قوم کے لیے جرات، عزم، ایمان اور قومی وفاداری کی روشن مثال قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 1965 کی جنگ کے دوران میجر عزیز بھٹی شہید نے لاہور کے قریب برکی سیکٹر کا جرات مندی سے دفاع کرتے ہوئے مسلسل پانچ دن اور راتیں دشمن کے شدید حملوں کے خلاف فولادی دیوار بنے رہے۔
ان کی مثالی قیادت اور بے مثال حوصلے نے ان کے جوانوں کو بھی دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا حوصلہ دیا۔
ان کے زیرِ قیادت شجاعانہ دفاع نے دشمن کی پیش قدمی کو روکنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو پاکستان کی عسکری تاریخ میں جرات و حب الوطنی کی ایک روشن علامت بن چکا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میجر عزیز بھٹی شہید کی جانثاری اور فرض شناسی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
پوری قوم آج کے دن ان کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے تمام شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے مادرِ وطن کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔
افواج پاکستان نے ایک بار پھر اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ میجر عزیز بھٹی شہید کے ایمانی جذبے اور عزم کے ساتھ وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار رہیں گی۔
افواج پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میجر عزیز بھٹی شہید افواج پاکستان کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔