نیویارک میں پالتو جانوروں کا کھانا چرانے والا نقاب پوش ریکون نکلا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
نیویارک کے علاقے پلیٹس برگ میں ایک رہائشی کے گھر کے سامنے نصب سیکیورٹی کیمرے نے ایک منفرد پورچ پائرٹ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ یہ چور کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بھوکا ریکون تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا: غاروں میں چالاک ریکون کا پیچھا، بدھو کتے کو جان کے لالے پڑگئے
رپورٹ کے مطابق گھر کے مالک نے 93 ڈالر مالیت کا پالتو جانوروں کا کھانا فیڈ ایکس کو واپس کرنے کے لیے پورچ پر موجود ڈبے میں رکھ دیا تھا، مگر ایک ریکون نے منصوبہ بگاڑ دیا۔
کیمرے میں قید ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جانور ڈبے کو پھاڑ کر مزے سے کھانے لگ گیا۔
رہائشی نے بتایا کہ ریکون اگلی راتوں میں بھی میل بن کے قریب واپس آتا رہا تاکہ مزید کھانے کی تلاش کرسکے۔ کمپنی Chewy نے صورتحال سمجھنے کے بعد مکمل ریفنڈ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کولمبیا: گھر میں گھسے ’ریکون‘ کو باہر نکالنا پولیس کے لیے دلچسپ و انوکھا واقعہ کیوں بن گیا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا واقعہ 2024 میں ٹیکساس میں بھی ہوا تھا جب ایک اوپوسم نے دروازے پر رکھے کوکیز کے پیکٹ کو چرا کر مزے لوٹے۔ اس موقع پر پولیس نے بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کر کے مزاحیہ تبصرے کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا پالتو جانور چوری ریکون کھانا نیویارک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پالتو جانور چوری ریکون کھانا نیویارک
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ