اسلام آباد: ’آسان خدمت سینٹر‘ 90 دن میں افتتاح کا ہدف، کیا سہولیات دی جائیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت ’آسان خدمت سینٹر‘ کے قیام کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق آذربائیجان کے ماڈل پر اسلام آباد میں پہلا ’آسان خدمت سینٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
احد چیمہ نے اجلاس میں بتایا کہ کوشش ہوگی کہ اس سینٹر کا باقاعدہ افتتاح 90 روز کے اندر کیا جائے۔ اس موقع پر وزارت آئی ٹی، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں نے تفصیلی بریفنگ پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ ’آسان خدمت سینٹر‘ کے ذریعے شہریوں کو 100 سے زائد سروسز فراہم کی جائیں گی اور اس میں ایف بی آر، سی ڈی اے، اسلام آباد پولیس سمیت 10 سے زائد ڈیپارٹمنٹس شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں ’آسان خدمت مرکز‘ قائم کرنے کا فیصلہ، پاکستان اور آذربائیجان میں معاہدہ طے
وفاقی وزیر نے حکام کو ہدایت کی کہ وزارت خارجہ کی سروسز بھی اس سینٹر میں شامل کی جائیں تاکہ شہریوں کو تمام خدمات ایک ہی جگہ پر میسر ہوں۔
احد چیمہ نے مزید کہا کہ آذربائیجان کی حکومت اس منصوبے میں مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرے گی اور اسلام آباد میں پی ڈبلیو ڈی کی بلڈنگ میں اس سنٹر کو قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ آئندہ ہفتے تک حتمی تجاویز پیش کریں تاکہ منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ اس منصوبے میں کسی بھی صورت تاخیر نہ کی جائے، شہریوں کو بروقت اور معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام محکمے فوری اقدامات کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’آسان خدمت سینٹر‘ آذربائیجان احد چیمہ وفاقی وزیر اقتصادی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احد چیمہ وفاقی وزیر اقتصادی امور وفاقی وزیر اسلام آباد احد چیمہ
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں