چارلی کرک کے قتل پر خوشی منانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، امریکی نائب وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی افراد جو قدامت پسند رہنما چارلی کرک کے قتل پر خوشی مناتے ہیں، جواز پیش کرتے ہیں یا اس کو ہلکا لیتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چارلی کرک کے قاتل کی تلاش ، اطلاع دینے والے کو کتنا انعام ملے گا؟
لینڈاؤ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ہمارے ملک میں ایسے غیر ملکیوں کی کوئی جگہ نہیں جو تشدد اور نفرت کو بڑھاوا دیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے قونصلر حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایسے افراد کے خلاف ’مناسب اقدامات‘ کیے جائیں، تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ اقدامات کس نوعیت کے ہوں گے۔
Charlie Kirk has defended every massacre in Gaza and used every platform available to justify Israel’s starvation campaign pic.
— Ashok Kumar | ???????? (@broseph_stalin) September 10, 2025
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے لوگوں کو ویزے دینے کے حق میں نہیں ہے جن کی موجودگی امریکا کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو۔
یاد رہے کہ 31 سالہ چارلی کرک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور نوجوان ووٹرز میں ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت بڑھانے کے لیے سرگرم تھے، جو بدھ کے روز یوٹا کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو ’سنگین قتل‘ قرار دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی نائب وزیر خارجہ چارلی کرک صدر ڈونلڈ ٹرمپ قتل کرسٹوفر لینڈاؤ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی نائب وزیر خارجہ چارلی کرک صدر ڈونلڈ ٹرمپ قتل چارلی کرک
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔