سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلیے مردم و زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد حتمی نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری اور زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق انفرا اسٹرکچر، کاروبار کی تباہی کا پتا لگانے کے لیے اکنامک سینسز سے بھی مدد لی جائے گی۔ زراعت شماری سے حاصل ڈیٹا سے فصلوں اور لائیو اسٹاک کے نقصانات کا تجزیہ کیا جائے گا۔
دستیاب ڈیٹا اور سافٹ ویئر کے استعمال سے سیلابی نقصانات کا سروے کیا جائے گا، جس سے اضلاع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر ہوئے سیلابی نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اکنامک سینسز کے دوران ملک بھر کی عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا تھا۔ اس سے بزنس سینٹرز، اسکول، کالجز، جامعات، مساجد سمیت دیگر عمارتوں کو نقصان کا پتا چل سکے گا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نقصانات کا
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔