نیپال میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس سشیلا کارکی کے عبوری وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعدپارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا ہے اورنئے عام انتخابات 5 مارچ 2026کو کرانے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق، پارلیمنٹ کی تحلیل کا فیصلہ عبوری وزیراعظم کی سفارش پر کیا گیا۔ عبوری وزیراعظم سشیلا کارکی بدعنوانی کے خلاف سخت مؤقف اور سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی، تاہم بعد ازاں عوامی دباؤ پر ان کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہو گئی اور انہوں نے خود استعفیٰ دے دیا تھا۔
ادھرفوج نے دارالحکومت کھٹمنڈو کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ سیاسی بے چینی کے باعث سابق وزرائے اعظم، کابینہ ارکان، پارلیمنٹ اور عدالتوں کی عمارتوں کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں کئی دنوں سے جاری احتجاج اور بدامنی میں اب تک 51 افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ، صدارتی محل اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر حملے کیے، جبکہ سوشل میڈیا پر پابندی کے باوجود ملک گیر مظاہرے جاری رہے۔ احتجاج میں درجنوں گاڑیاں اور عمارتیں جلا دی گئیں، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔
احتجاج کی بڑی وجوہات بدعنوانی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری بتائی جا رہی ہیں، جس نے عوامی غصے کو ملک گیر تحریک میں تبدیل کر دیا۔
ادھر وزیرداخلہ رمیش لیکھک، وزیر زراعت رامناتھ ادھیکاری اور دیگر اہم وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ وزیراعظم کھگندر پرساد اولی بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔ فوج نے اہم وزراء کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔صدررام چندر پاؤڈل نے عوام سے پرامن رہنے اور خون خرابے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کر دیا

پڑھیں:

وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک

استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان الیکشن کی تاریخ کے آخری ہفتے میں انتخابی مہم زروں پر پہنچ گئی ہے، وفاقی جماعتوں کے تقریباً تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں اور اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسہ سے خطاب کیا۔ پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، چوہدری منظور پہلے ہی گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، خواجہ سعد رفیق بھی جی بی میں موجود ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی قائدین بھی متحرک ہیں۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف بھی گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے پولنگ 7 جون کو ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا