Express News:
2026-07-24@02:39:21 GMT

دبئی میں پاک بھارت کرکٹ دنگل کا اکھاڑہ سج گیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT

DUBAI:

دبئی میں پاک بھارت کرکٹ دنگل کا اکھاڑہ سج گیا ہے اور ایشیا کپ میں روایتی حریفوں کا ٹاکرا آج ہوگا، فاتح ٹیم سپر فور میں رسائی حاصل کر لے گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت ایشیا کپ میں اتوار کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم پر مدمقابل ہوں گے، رواں سال جنگ کے بعد روایتی حریفوں کا یہ پہلا مقابلہ ہے۔ 

ایونٹ کا میزبان بی سی سی آئی یو اے ای میں مقابلوں کا انعقاد کر رہا ہے،حکام پر گرین شرٹس سے میچ کا بائیکاٹ کرنے کیلیے خاصا دباؤ تھا جسے نظرانداز کرتے ہوئے ٹیم میدان میں اتر رہی ہے۔ 

نان ایشوز کو میڈیا کی جانب سے اچھالے جانے کی وجہ سے بھارتی کرکٹرز پر خاصا دباؤ ہوگا، دونوں ٹیموں نے ایونٹ کا کامیاب آغاز کیا، پاکستان نے عمان کو 67 پر آؤٹ کرتے ہوئے 93 رنز سے آسان فتح کوگلے لگایا۔ 

محمد حارث نے فارم میں واپس آتے ہوئے 66 رنز کی اننگز کھیلی، البتہ دیگر ٹاپ آرڈر بیٹرز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود ہیں، صائم ایوب اور سلمان علی آغا اپنی پہلی ہی گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے تھے۔ 

صاحبزادہ فرحان نے 29 رنز اتنی ہی بالز پر بنائے جبکہ حسن نواز کی اننگز 9 رنز تک محدود رہی، فخر زمان 23 پر ناٹ آؤٹ رہے لیکن روایتی مار دھاڑ دکھائی نہیں دی۔ 

ایک موقع پر 200 رنز بنتے لگ رہے تھے مگر پھر بامشکل 7 وکٹ پر 160 تک اسکور پہنچ سکا، بھارت کی مضبوط بولنگ لائن کے خلاف پاکستانی بیٹرز کو ذمہ داری سے کھیلنا ہوگا۔

اسٹرائیک ریٹ اور ڈاٹ بالز کے مسئلے پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، اسپنرز صائم ایوب، سفیان مقیم اور ابرار احمد نے اچھی بولنگ کی، پیسر شاہین آفریدی کا دوسرا اسپیل بہتر رہا، فہیم اشرف نے بھی رنز نہیں بننے دیے جبکہ 2 وکٹیں بھی لیں۔ 

بھارتی بیٹرز روایتی طور پر اسپنرز کا سامنا اچھے انداز میں کرتے ہیں، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ  ابرار اور سفیان دونوں کو کھلائیں یا کسی ایک کو ڈراپ کر کے پیسر حارث رؤف کو واپس لایا جائے۔

کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ اگر ٹیم نے اپنے پلانز پر عمل کیا تو ہم کسی بھی حریف کو ہرا سکتے ہیں، گزشتہ 2،3 ماہ سے ہم اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں، بیٹنگ میں ہمیں اب بھی محنت کی ضرورت ہے البتہ بولرز کی کارکردگی غیرمعمولی رہی، عمان کیخلاف ہم نے جیسا آغاز کیا اسے دیکھتے ہوئے 180 رنز تو بنانے چاہیے تھے۔ 

کپتان نے کہا کہ پاکستانی اسپنرزبہت اچھی بولنگ کر رہے ہیں، عمان کے خلاف پیسر شاہین آفریدی نے دوسرا اسپیل عمدہ کیا، اسی طرح فہیم اشرف کی کارکردگی بھی بہتر رہی۔ 

انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک دوسرے سے بالکل مختلف تین اسپنرز موجود ہیں،صائم ایوب کا ساتھ بھی حاصل ہے، وہ نئی اور پرانی گیند کے ساتھ غیرمعمولی پرفارم کرتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے بھی یو اے ای کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے ایشیا کپ کا شاندار آغاز کیا، میزبان ٹیم 57 رنز پر ڈھیر ہو گئی، اسپنر کلدیپ یادو نے 4 اور پیسر شیوم دوبے نے 3 وکٹیں اڑائیں، بھارت نے آسان ہدف صرف 4.

3 اوورز میں حاصل کیا۔ 

ابھشیک شرما اور شبمن گل نے جارحانہ اننگز کھیلیں، ٹیم اب پاکستان کیخلاف بھی ایسا ہی پرفارم کرنا چاہتی ہے، البتہ آف دی فیلڈ معاملات کی وجہ سے بھارتی کرکٹرز دباؤ میں ہوں گے۔ 

سلیکشن پر تنقید کے بعد  میڈیا پاکستان سے میچ کھیلنے پر ہی اپنے ہی کرکٹرز کا دشمن بن گیا ہے، صدر اے سی سی محسن نقوی سے مصافحہ کرنے پر کپتان سوریا کمار یادو کی بھی خوب کلاس لی گئی۔ 

کھلاڑی جانتے ہیں کہ اگر ہار گئے تو بْرا حشر ہو گا اس لیے زیادہ محتاط رہیں گے۔

بھارت کے پاس جسپریت بمرا اور ہردیک پانڈیا جیسے سینئر پیسرز موجود ہیں، اکثر پٹیل، ورون چکرورتی اور کلدیپ یادو کی اسپن بولنگ کا سامنا بھی حریف بیٹرز کے لیے آسان نہیں ہوتا،شمبن گل کے ساتھ کپتان سوریا کمار یادو کی جارحانہ بیٹنگ بھی فرق ڈال سکتی ہے۔

میچ کے ٹکٹس کی فروخت کا سلو آغاز ہوا اور خلاف توقع بدستور بعض انکلوڑرز کے ٹکٹ گزشتہ روز بھی دستیاب تھے، البتہ منتظمین کو اتوار کے روز ہاؤس فل کا یقین ہے۔ 

سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس نے شائقین کو بہتر رویہ اپنانے کی ہدایت کرنے کے ساتھ قانون کی خلاف ورزی پرجرمانے اور سزاؤں کی بھی یاد دہانی کرا دی ہے۔

دبئی میں دونوں ٹیموں کا آخری مقابلہ ستمبر 2022 میں ہوا تھا جب پاکستان نے محمد نواز کی آل راؤنڈ کارکردگی اور محمد رضوان کے 71 رنز کی بدولت 5 وکٹ سے کامیابی حاصل کر لی تھی،اس ٹیم میں شامل  فخر زمان، خوشدل شاہ اور حارث رؤف ہی موجودہ اسکواڈ کا حصہ ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کے آخری میچ میں بھارت نے امریکا میں پاکستان کو شکست دی تھی، حالیہ دنوں میں گرین شرٹس نے اپنے آخری 14 میں سے 10 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں فتح حاصل کی ہے، آج کا میچ جیتنے والی ٹیم سپر فور میں رسائی حاصل کر لے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا