ڈیرہ غازی خان میں ندی سخی سرور سے 500 قدیم سکے برآمد، شجاع آباد میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
ڈیرہ غازی خان: ندی سخی سرور میں آئے حالیہ سیلابی ریلے کے بعد ایک حیران کن دریافت سامنے آئی ہے، جہاں سے تقریباً 500 قدیم سکے برآمد ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ نایاب سکے مقامی افراد کو ریلے کے بعد ملے، جنہوں نے انہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر صدیوں پرانے تاریخی ادوار سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کا مکمل تجزیہ اور تحقیق کی جا سکے۔
دوسری جانب، ملتان کی تحصیل شجاع آباد میں سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ دھوندو والا بند میں پڑنے والا شگاف اب 400 فٹ تک پھیل چکا ہے، اور مسلسل پانی داخل ہونے سے مزید کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔
محکمہ انہار کا کہنا ہے کہ مٹی کی قلت کے باعث شگاف کو بند کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔ دو روز گزرنے کے باوجود متاثرہ علاقے کے لوگ کھلے آسمان تلے بے سہارے بیٹھے ہیں۔ متاثرین کا شکوہ ہے کہ نہ انہیں پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ خوراک، اور ان کے مویشی بھی مر رہے ہیں۔
متاثرین نے بتایا کہ ان کے علاقے میں اس سے پہلے کبھی ایسا سیلاب نہیں آیا، اور وہ موجودہ حالات کو زندگی کا ایک کڑا امتحان قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔